اپنے ھی اپنوں کے کام اتے ھیں

siaksa's picture

ایک نازک موقع پر جب پورہ پاکستان غم کے ماحول میں ڈبوبا ھوا ھے۔ خبیر پختون خواہ کی عوام سیلاب کی بدترین تباہ کارییوں سے لڑرھی ھے۔ اییر بلیو طیارے کے حادثے کی وجہ سے پورے ملک کی انکھیں اشک بار ھیں۔ کراچی میں خوف کا عالم ھے ۔ سیلاب سندہ کی طرف رخ کرنے والا ھے۔ ایسے میں عزت ماب جناب صدر پاکستان کے دورہ انگلستان کی خبیریں گرم ھیں۔ کیا ھماری قومی غیرت ختم ھوگی ھے۔ کیا ھم کو ڈیوڈ کمیرون کے ان توھین امیز بیانات کے بعد بھی لندن کا دورہ کرنا چاھیے۔ کیا یہ ھی صلہ ھے ھماری قربانیوں کا جو ھماری فوج، پولیس اور عوام عالمی امن کی خاطر اپنے سینوں پر گولیاں اور بم کھاکر دے رھے ھیں۔ پاکستان کو ھم نے تباہ کردیا دنیا میں امن قایم کرنے کے لیے۔ پورے پاکستان کو ھم نے میدان جنگ بنا ڈالا۔ جن لوگوں کی خاطر ھم نے یہ سب کیا۔ ان کی طرف سے الزام بازیاں اور زھر اگلنے کا سلسلہ بند ھونے کا نام نھیں لیتا۔ اور ھم پھر بھی ان ھی کی طرف بھاگے چلے جاتے ھیں۔ اخباری خبروں کے مطابق غریب ملک کے امیر حکمران جن کے دورہ انگلستان میں ھونے والے اخراجات پڑھکر شرم سے سر جھک جاتا ھے۔ ۱۸ سویٹ اور ۱۰یگزیکٹو روم بک کرواے گیے ھیں۔ اور اللہ بھلا کرے اور پاکستان کھپے۔ ایک سویٹ کا ایک روز کا کرایہ ۷۰۰۰ پاونڈ ھے۔ مزے کی بات یہ بھی ھے کہ ۷۰۰۰ پاونڈ روزانہ میں کھانا شامل نھیں اس کے لیے الگ سے ایک ایشای ریسٹورنٹ کو ارڈر دیا گیا ھے۔ جس کا ایک پارسل ۱۸ پونڈ کا ھے۔ اس کے علاوہ ۱۰ سے ۱۲ لگزری کاریں بھی ۴۰۰ پاونڈ کے حساب سے کراے پر حاصل کی جارھی ھیں اور جب کہ سرکاری دورہ بھی ھے تو تمام اخراجات عوام کی خون پسینے سے حاصل کیے ھوے ٹیکسوں سے ھی ادا کیا جاے گا۔ یہ بے مقصد دورہ ان بے حس لوگوں کے لیے کیا جارھا ھے جو پاکستان اور اس کی عوام کی قربانیوں کو کوی حثیت نھیں دیتے۔ کیا یہ ضروری نھیں کہ اس دورے کو چھوڑ کر پاکستان کے غم زدہ لوگوں کی حوصلہ افزای کی جاے ان کے دکھوں کو پیار اور محبت سے دور کیا جاے۔ ان کے زخموں پر مرھم رکھاجاے۔ جو اخراجات اس دورہ پر کیے جانے ھیں ان کو طیارے حادثے کا لواحقین اور سیلاب سے متاثر لوگوں کی مدد پر خرچ کیے جاییں۔ کیونکہ یہ ھی ھمارے ھیں ۔ ان ھی سے پاکستان ھے۔ نا کہ وہ لوگ جن کو ھماری قربانیوں کی کوی قدر و منزلت نھیں۔ خدارہ اپنے ملک کی عوام سے محبت کرو ان کو اپنا سمجھو۔ یہ ھی تمھارے کام اییں گے۔قومی غیرت کا تقاضہ ھے کہ ڈیوڈ کمیرون کے بے ھودہ الزام کا سختی سے جواب دیا جاے۔ اور دورہ انگلستان کو منسوخ کیا جاے۔ جس کا مشورہ جناب الطاف حسین اور جناب شھباز شریف صاحب نے بھی دیا ھے۔ اس وقت پاکستان کی عوام اپنے صدر کی محبتوں کی طلب گار ھے۔ ان کی داد رسی کی جاے اور متاثرہ علاقوں کے طوفانی دورے کیے جاییں اور انکی مدد کے لیے دن رات ایک کیے جاییں۔ کیونکہ اپنے ھی اپنوں کے کام اتے ھیں۔

Share this
No votes yet

Comments

Guest's picture

Apne hi apnu k kamate hein!!

Yeah Mr. Saleem
Your are right, the money which is going to waste by xtra visits should be used for the wellfare of our nation, because this is the money which govt receives us in the form of tax. I agree with you that it should be used for the areas under flood.
Becuse in our dear homeland peoples are dieing by hunger and thurst n our president has no time to ask them which are starving here. All crops has been finished, with these crops peoples hopes and everything has been finished. Thanx
Sherry_Uvas, Lahore
sharjeelakhtar76@yahoo.com

Contact Author

Give feedback to author about this article.
CAPTCHA
This question is for testing whether you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.