جھوٹ کا گھڑا

siaksa's picture

کھیتے ھیں جھوٹ کا گھڑا کبھی نہ کبھی ضرورپھٹتا ھے اور جھوٹ کو زیادہ دیر تک چھپایا نھیں جاسکتا ھے۔ اس بات کی سچای اس وقت حقیقت بن کر سامنے ای جب کھچھ عرصے پھلے ماضی کے میجر امتیاز نے جناح پور کے جھوٹے الزام کو متحدہ قومی موومنٹ پر ڈالنے کا اعتراف کیا تھا۔ اور اج پھر ایک اور جھوٹ کا گھڑا ماضی کے ایک اور عھدے دار نے پھوڑ کر اس بات کا اعتراف کرلیا حکیم سعید کے قتل میں متحدہ قومی موومنٹ کا کوی کردار نھیں تھا اور اس کو باقاعدہ ایک سازش کے زریعے متحدہ کے سرڈال کر ا۹۹۲ کا فوجی اپریشن کروایا گیا۔ جو ایک پاکستان کی تاریخ میں ایک بدنما داغ ھے۔ اج جب عدلیہ ازاد ھے اور ھر ھونے والے ظلم کے خلاف سوموٹو ایکشن لیتی ھے تو کیا ھماری قومی غیرت اس بات کا تقاضہ نھیں کرتی کہ پاکستان کا ایک مخلص انسان جس نے اپنی تمام زندگی پاکستان کے لیے وقف کردی تھی جس کا مرنا جینا صرف اور پاکستان کے لیے تھا۔ جس کا قایم کیا گیا ھر ادارہ وقف پاکستان تھا۔ کیا صلہ دیا گیا اس انسان کی خدمت کا۔ اس کو قتل کردیا گیا اور اس پر ظلم یہ کیا گیا کہ جھوٹ اور مکر و فریب سے متحدہ قومی موومنٹ پر اس قتل کا الزام ڈال کر <?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
ھزاروں انسانوں کے خون کو پانی کی طرح بھایا گیا۔ ان سب کارواییوں کے پھیچے کس کا دماغ تھا کون اس کا ماسٹر مانینڈ تھا اس کو پکڑنا اور اس کو اسکے انجام تک پھنچانا ازاد عدلیہ پر ایک قومی ذمہ داری بن جاتی ھے۔ خدارہ اللہ کی اس زمین پر جس جس انسان کو اللہ نے یہ توفیق اور منصب عطا کیا ھے کہ وہ ظلم اور زیادتی کو روکے۔ وہ بڑا خوش نصیب انسان ھے اور اس سے ایک عام انسان سے زیادہ سوال کیا جاے گا کیونکہ وہ اس کی قدرت رکھتا تھا کہ ظلم کرنے ظالموں کا قلعہ قمع کرے۔ جب رب باری تعالی عدالت لگے گی تو کیا جواب ھوگا ان تمام خوش نصیب انسانوں کا جس کو اللہ نے کوی ذمہ داری یا قدرت عطا کی تھی کہ زمین پر ظلم او
ر زیادتی کے خلاف اپنا کردار عطا کرنے کا۔ سوال سب سے ھے کب تک اخر یہ سلسلہ جاری رھے گا کہ کسی کے ناحق خون کا الزام مکر وفریب سے کسی بے گناہ پر ڈال کر مذموم عزایم پر پردہ ڈالا جاتا رھے گا۔ اور کیا ھم سب صرف اس بات کا انتظار کرتے رھییں ھے کہ دفعہ کوی نہ کوی ظلم کرنے والا اپنے ضمیر کی اواز پر سچ بولے۔ لیکن جب تک کسی کا ضمیر جاگتا ھے اس وقت تک بھت دیر ھوجاتی ھے۔ اور ھزاروں ناحق انسان اس ظلم کی بھینٹ چڑجاتے ھیں۔

Share this
No votes yet

Comments

Guest's picture

hi

nice

Contact Author

Give feedback to author about this article.
CAPTCHA
This question is for testing whether you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.