حکیم اللہ محسود ہلاک

anawazkhan's picture

حکیم اللہ محسود ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو ڈرون حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے ہیں۔
طالبان کے مطابق جمعہ کو شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں ڈرون طیاروں نے حکیم اللہ محسود کے زیرِ استعمال ایک گاڑی اور ایک مکان کو نشانہ بنایا اور ان حملوں میں حکیم اللہ محسود سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
دنیا بھر کے دہشت گرد پاکستان میں موجود ہیں۔ "ہر کوئی شمالی وزیرستان میں ہے،وہان عرب ہیں ،ازبک ہیں ،تاجک ،انڈونیشی ،بنگالی، پنجابی ،افغان ، چیچن اور سفید جہادی ۔ یورپین جہادی" کامران خان ممبر پارلیمنٹ، میران شاہ۔ "تقریبا ۱۰ ہزار غیر ملکی جہادی شمالی وزیرستان میں ہیں"( ڈیلی ڈان ) وہان القائدہ ہے،طالبان ہیں، پنجابی طالبان ہیں ،حقانی نیٹ ورک ہے،حرکت جہاد اسلامی ہے،لشکر جھنگوی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اسامہ بن لادن کے ساتھی غیرملکی دہشت گرد شمالی وزیرستان پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہون نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔
“دہشت گردں کا کام تمام ہونا پاکستان اور ہمارے شہریوں کے مفاد میں ہے۔ ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے، وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حامی، جن کی نظریں ہر وقت اآسمان کی طرف لگی رہتی ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، ان کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں کیونکہ لوگ طالبان اور القائدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں سخت تنگ ہیں.
ڈرون حملوں میں مارے جانے والے زیادہ ترالقائدہ اور طالبان کے دہشت گرد تھے:پاکستان ملٹری شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کےمیجر جنرل غیور محمود، جو کہ وہان ساتویں ڈویژں کے جنرل آفیسر کمانڈنگ بھی ہیں نے کُھل کر اعتراف کیا ہے کہ ڈرونز جہازوں کا نشانہ بننے والے بیشتر افراد کی اکثریت طالبان اور القاعدہ کے وفادار جنگجو تھے اور ان کی اکثریت غیر ملکی تھی۔ یہ باتین انہوں نے صحافیوں کو میران شاہ میں ایک بریفنگ میں کہیں۔ میجر جنرل غیو رمحمود نے انہیں بتایا کہ ڈرونز کے حملوں میں بیشتراہم طالبان اور القائدہ جنگجو ہلاک ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والے بے گناہ لوگوں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔
انہوں نے کہاکہ 2007 سے اب تک عسکریت پسندوں کے زیرِ اثر شمالی وزیرستان کے علاقے میں ڈرونز کے 164 حملے کیئے گئے ہیں جن میں 964 سے زیادہ القائدہ اور طالبان کے دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 171 القاعدہ کے جنگجو تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق وسط ایشیا اور عرب ملکوں سے تھا۔ یہ خبر ڈیلی پاکستان کے علاوہ ڈیلی ڈان کی ۱۰ مارچ کی اشاعت میں بھی شائع ہو ئی ہے۔
ہزاروں بے گناہ پاکستانی مردوں ،عورتوں اور بچوں کا یہ سفاک،ظالم اور بے رحم قاتل اور ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ، مظلوم کی بد دعا اور اللہ کے عرش کے درمیان کوئی پردہ اور حجاب نہیں. مظلوموں کی بد دعائیں ظالم حکیم اللہ کو لے ڈوبیں ۔ جو اقوام ظلم وجبر ،انتہا پسندی و دہشتگردی کے خلاف آواز بلند نہیں کرتیں تو ان کا بھی شمار یزیدی لشکر میں ہی ہوتا ہے ۔ظلم کیخلاف آواز بلند نہ کرنا ظالم کی حوصلہ افزائی ہے اوراس سے دنیا میں ظلم کو فروغ حاصل ہوتا ہے .
مبصرین کے خیال میں حکیم اللہ محسود کے چلے جانے سے طالبان کی جدو جہد فوری طور پر کمزور پڑ جائے گی۔ تنظیم کے اندر مختلف گروپ ،جانشینی پر ،آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کر دیں گے جس سے تنظیم کمزور پڑ جائے گی اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے گی۔ مزید ٹکروں میں بٹ جانے کی وجہ سے طالبان کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ حکیم اللہ محسود انتہائی بدترین دہشتگرد اور پاکستان کا دشمن تھا جس نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف ،نام نہاد ،اعلان جہاد کیا تھا۔ بلا شبہ حکیم اللہ محسود کا مارا جانا طالبان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے.
سلامتی کے امور کے تجزیہ کار اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سلامتی کے امور کے سابق سیکرٹری ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دہشت گرد تنظیم کا کمزور قیادتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اور نئے سربراہ کو منتخب کرنے کی اندرونی رسہ کشی نے گروپ کے حوصلے مزید پست کر دیے ہیں۔ بریگیڈیر محمود شاہ نے کہا کہ مہمند طالبان اپنے بندے عمر خالد خراسانی کو تحریک کا سربراہ مقرر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ نورستان گروپ چاہتا ہے کہ ملا فضل اللہ کو سربراہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محسود قبائل ایک واحد امیدوار پر متفق ہونے میں ناکام رہے ہیں جس سے اس بات کا واضح اظہار ہوتا ہے کہ انتشار اور افراتفری نے تحریک طالبان پاکستان کی صفوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
عسکریت پسندی کے معاملات کا احاطہ کرنے والے فری لانس صحافی سیف اللہ گل نے کہا کہ فضل اللہ اور خراسانی کے درمیان مسابقت کے باعث تحریک طالبان پاکستان کا بے مرکز ڈھانچہ مزید تقسیم ہو جائے گا۔
شمالی وزیرستان کی شورٰی نے 2 نومبر کو خان سید (عرف سجنا) کو نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر دیگر گروپوں نے اس تعیناتی پر فوراً ہی اعتراضات کر دیے۔
جنوبی وزیرستان ایجنسی کے طالبان کے ترجمان اعظم طارق نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ وہ سجنا کو اپنا رہنما قبول نہیں کریں گے۔
(http://centralasiaonline.com/ur/articles/caii/features/pakistan/main/201...)
دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر آ گ اور بارود برساتے ہیں اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے اور ا س انتہا پسندی کے منبے شمالی وزیرستان میں ہیں ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔ مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔ جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔
مبصرین کے مطابق حکیم اللہ کی ہلاکت سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر دباؤ میں ممکنہ کمی واقع ہو گی اور یہ تنظیم اب اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی اور یہ مزید ٹکروں میں تقسیم ہوجائے گی اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں کمی واقع ہو گی ۔
دہشت گرد تنظیموں کا ڈہانچہ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح ان کے لیڈروں کے گرد ہی گھومتا ہے جو زندگی میں تنظیم کو متحد و منظم رکھتے ہیں مگر ان کے جانے کے بعد ، تنظیم کی لیڈری کے بارے میں تنازعات شروع ہوتے ہیں اور تنظیم کے اندر مختلف گروپ آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کر دیتے ہیں جس سے تنظیم کمزور پڑ جاتی ہے اور اپنی سرگرمیاں رکھنے کے قابل نہیں رہتی۔ ہی حال ظالمان طالبان کا ہو گا۔ جہادی ذرائع کے مطابق حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے ٹی ٹی پی میں قیادت کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور تمام ٹاپ لیڈر چاہتے ہیں کہ انہیں ہر قیمت پر امیرکاعہدہ دیا جائے۔ تحریک طالبان پاکستان کے 40 جہادی گروپوں کے لئے نئے امیر کا انتخاب انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ درجنوں جہادی گروپ باہمی نفاق کے نتیجے میں مزید دھڑوں میں تقسیم ہو جائیں۔
عقیل یوسفزئی کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان کی زیرِ سایہ شمالی وزیرستان میں ایک غیر اعلانیہ ریاست قائم ہے.
سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس نے کہا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت خوش آئند ہے ، دہشت گردوں نے عوام اور فوج کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس نے نجی ٹی وی سے بات چیت میں کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو وقتی طور پر تو نقصان پہنچا ہے لیکن ایسی تحریکیں جلد دوبارہ کارروائیاں شروع کردیتی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کی خاموش اکثریت حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر خوش ہے، صرف چند بزدل اور ڈرپوک حکیم اللہ کی ہلاکت کا سوگ منارہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سابق وزیراعظم، جنرلز اور ہزاروں سپاہیوں کے قاتلوں کو ہم نے مذاکرات کی پیشکش کی اور ایک طالبان لیڈر کے مرنے سے مذاکرات سبوتاژ کیسے ہوگئے۔
آج دہشت گردی، شدت پسندی اور فرقہ واریت نے قومی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا کردیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی اتحاد کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔

Share this
No votes yet