
آرمی ہاؤس خالی مت کیجیئے گا۔ ہاں
اب اس بات کو بھی اشو بنایا جا رہا ہے کہ صدر آرمی ہاؤس استعمال نہ کریں۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے۔ محض یہ بات کہ صدر اب آرمی چیف نہیں رہے،اس لئے آرمی ہاؤس بھی چھوڑ دیں؟ بھلا یہ کیا بات ہوئی۔آخر فضل الرحمٰن صاحب اب تک پارلیمنٹ لاجز میں ہی کیوں پریس کانفرنسز کرتے اور ملاقاتیں کرتے ہیں انہیں بھی تو کوئی پوچھے کہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ کے باوجود پارلیمنٹ لاجز سے کیوں نہیں باہر جاتے، صدر کا محاسبہ "اپوزیشن" سے درگزر!(اب یہ گھسی پٹی دلیل نہ دیجیے گا کہ فضل الرحمٰن صاحب صدر کی لابی کے آدمی ہیں)۔
کیا آپ نہیں جانتے کہ سولجر کبھی ریٹائر نہیں ہوتا؟ آرمی ہاؤس خالی نہ کرنا کون سا بڑا مسئلہ ہے جو بنایا جا رہا ہے۔اتنی سی بات اور اتنا شور۔
ہم صدر سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ہر گز آرمی ہاؤس خالی نہ کریں۔ اور آخر کس قاعدے اور ضابطے کے تحت؟۔ ویسے کون سے باقی معاملات کسی قاعدے کے مطابق ہو رہے ہیں۔اور اگر قاعدہ بنانے کی ضرورت ہے تو بنا لیا جائے گا۔ شریف الدین پیرزادہ کس کام آئیں گے۔ یہ کام تو نعیم بخاری بھی کر لیں گے۔ بلکہ وصی ظفر یا شیر افگن بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسی بھی کیا ضرورت ہے۔
کیا لوگوں کو عقل نہیں ھے؟ کیا وہ ریئل اسٹیٹ آف افئیرز نہیں جانتے؟
کب سمجھیں گےلوگ