کوسوو کی آزادی

arifmahi's picture

کوسوو کے وزیر اعظم ہاشم تھاچی نے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوسو ایک جمہوری ریاست ہوگی۔

سربیا نے کوسوو کو دھمکی دی ہے کہ اسے سفارتی اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کوسوو کے سرب اور البانین باشندوں کے درمیان کشیدگی کا بہت زیادہ امکان ہے۔

سربیا کے وزیر اعظم وائےاسلاف کوشتونشتاسا نے کوسوو کے آزادی کے اعلان کی مذمت کی اور کوسوو کو ایک ’جعلی ریاست‘ قرار دیا۔

امریکی اور یورپی ممالک کوسو کی آزادی کے حمایتی رہے ہیں جبکہ سربیا اور حلیف روس نےاس کی مخالفت کی ہے۔

پارلیمنٹ کے تمام اراکان نے آزادی کی قرار داد کی ہاتھ اٹھا کر حمایت کی اور کسی ممبر نے اس کی مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔

وزیر اعظم ہاشم تھاچی نے کہا کہ کوسوو نےلمبےعرصے تک کوسوو کی آزادی کے لیےانتظار کیا اور ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے کوسوو کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔

وزیراعظم ہاشم تھاچی نےکہ کوسوو ریاست کو اقوام متحدہ کےمنصوبے کے تحت کے بنایا جائے گا۔

کوسوو کے وزیر اعظم نےعالمی فوج اور سویلین کی کوسوو میں موجودگی کا خیر مقدم کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کوسوو میں جشن کے دوران البانوی نژاد اور سرب آبادی والے علاقوں میں گڑبڑ کا اندیشہ ہے۔

شمالی کوسوو کے قصبے متروویسا میں نیٹو کی امن فوج نے سربوں اور البانوی باشندوں کو تصادم سے روکنے کے لیے خاردار تاریں بچھا دی ہیں۔ نیٹو امن فوج نے کمانڈر کا کہنا ہے کہ ان کی فوج البانوی یا سرب جانب سے کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں تیزی سے کارروائی کرے گی۔

دریں اثناء یورپی یونین نے کوسوو میں دو ہزار ارکان پر مشتمل پولیس اینڈ جسٹس مشن بھیجنے کی منظوری دی ہے۔اس مشن کی تعیناتی کا کام آئندہ ہفتے میں شروع ہو جائے گا۔

Share this
Your rating: None Average: 1 (1 vote)

Contact Author

Give feedback to author about this article.
CAPTCHA
This question is for testing whether you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.