آج کی دنیا کے تیزی سے بدلتے حالات کے اسباب و عوام پر غور کریں تو دو ہی بات نکل کر سامنے آتی ہے ۔ اقتصادی قوت حاصل کرنا اور دیگر ممالک پر اپنے اثرات مرتب کرنا۔غور کریں تو دنیا کےچھوٹے بڑے تمام مم
آخر آج یہ خبر آہی گئی کہ جنرل قذافی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ دنیا کو یقین تھا کہ جب دنیا کی طاقتور ملکوں نے ٹھان لی ہےکہ لیبیا سے قذافی کی حکومت ختم کر کے ہی د م لیں گے ، تب ہی یہ ظاہر ہوگیا تھا کہ اق
دنیا میں دہشت گردی کے لفظ کو عام کرنے اوربدنام کرنے اور اس کو ہوا بنانے میں سب سے بڑا ہاتھ امریکہ کا ہی ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا کے بدنام ترین دہشت گردوں کے گروپ کو امریکہ نے ہی بنایا، سنوا
گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کا نام جیسے ہی آتا ہے ایک ظالم اور فرقہ پرست لیڈر کا گھناونا چہرہ سامنے آجاتا ہے ۔سن دو ہزار دو میں گجرات میں جس طرح مسلمانوں کا قتل عام کیا گیاوہ ہندستان کی تاریخ میں
اس ملک ہندستان میں ہر طبقے ،فرقے، مذہب ، نسل اور قومیت کے حقوق الگ الگ محفوظ ہیں ، کہنے کو اقلیتوں کے بھی حقوق ہیں لیکن جب بھی اقلیت خاص طور پر مسلمانوں کے لیے کوئی قانون کوئی رعایت کوئی سہلوت دینے
دہشت گردی ایک ایسا لفظ ہے جس کا استعمال مختلف ممالک اپنے اپنے طور کر رہے ہیں اور اس کی تشریحات بھی اسی انداز سے کی جارہی ہیں۔اس کے حوالے سے عالمی سطح پر سیاست بھی کئی رنگ لیے ہوئے ہے ۔ کہیں دہشت
سال بھر کے انتظار اور ایک مہینے رمضان کی رونقوٕٕ کے بعد جب عید آتی ہے تو خوشیوں کا پیغام لے کر آتی ہے ۔کہتے ہیں کہ اگلی عید کا انتظار عیدکے دوسرے دن سے ہی شروع ہو جا تا ہے لیکن شاید اب ایسی بات نہیں