دنیا میں دہشت گردی کے لفظ کو عام کرنے اوربدنام کرنے اور اس کو ہوا بنانے میں سب سے بڑا ہاتھ امریکہ کا ہی ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا کے بدنام ترین دہشت گردوں کے گروپ کو امریکہ نے ہی بنایا، سنوا
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد امریکہ نے اپنے الزامات کا رُخ پاکستان کے جانب کر دیا ہے ،امریکہ پاکستان کو افغانستان میں اپنی ذلت امیز اور تاریخی شکست کا ذمہ دار ٹہرا رہا ہے ۔ اور وہ
ویسٹ ورجینیا ، امریکہ میں منعقدہ ایک کانفرنس(۷ تا ۱۰ اپریل ۲۰۱۱) میں ہندستان سے ہم، ڈاکٹر رضوان اورڈاکٹر اشتیاق تین لوگ شریک ہوئے ، امریکہ کے مختلف اسٹیس کے علاوہ کئی ممالک کے دانشور وں نے بھی شر
جس طرح سے امریکی سفارتکاری کا پھیہ جگہ جگہ دنیا بھر میں لیکچ کا شکار ھورھا ھے۔ اس سے دو باتیں تو صاف ظاھر ھیں کہ خصوصا پاکستان کے اعلی طبقات کے لوگ جس جگہ جاکر اپنا دکھڑا روتے تھے وہ پاکستان میں متعن
According to anti-globalization activists, current world economic order is only serving the elite minority and making the majority poorer just because the corporate globalization or free-market capita
کے دھرے رہ جاتے ہیں جب دہشت گرد اپنے اہداف تک بآسانی پہنچ کر قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کرنے میں کامیاب رہنے کے ساتھ ساتھ ان حملوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں شرکت کے باعث 2002 سے 2010تک پاکستان کو 68 ارب ڈالر یا 5،848 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ھے، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والا اوسط نقصان 8 ارب امریکی ڈالر سالانہ ھے۔
اگرچہ حکومت کی جانب سے انسداد ِ دہشت گردی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جانے کی نوید آئے روز سنائی جاتی ھے اور قبائلی علاقوں میں باقاعدہ فوجی آپریشن کے دعوے کئے جاتے ہیں اور اخبارات میں آئے دن طالبان دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، لیکن ایک عام شہری ان اقدامات سے مطمئن نظر نہیں آتا اور اس سلسلے میں عمومی تصور یہی پایا جاتا ھے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ھے وہ کسی گہری سازش کا نتیجہ اور کسی بڑے عالمی استعماری کھیل کاحصہ ھے۔متعلقہ حکومتی اہلکار بشمول