تبلیغی جماعت اور شرعی احکام

محمد الیاس's picture

رائیونڈ کی تبلیغی جماعت اسلام پھیلانے کیلئے سرگرم عمل ہے ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کی ترتیب اس بنیاد پر رکھی گئی ہے کہ ہر حال میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کو زندہ رکھا اور دوسروں تک پہنچایا جائے۔ خاصکر ان مسلمانوں میں دین کی احیاء کی جائے جو صرف نام کی حد تک اسلام سے وابسطہ ہیں۔ تبلیغی تحریک کی خوبیاں اور خامیاں ذیل ہیں۔
تحریک کی خوبیاں
۱-خدا کی وحدانیّت کی درست تعلیم جو اسلام کی بنیاد ہے۔
۲- عبادات اور سورتوں کی تصحیح کرنا۔
۳- سیاست سے پرے رہ کر خدا کے نام پر صرف اپنی تحریک کی پیروی کرنا۔
خامیاں۔
۱- تمام دنیاوی معاملات حتی کہ بعض شرعی احکام سے بھی قطع تعلق کر کے تبلیغی تحریک میں وقت لگانے کی تعلیم۔
۲- اس بات کی تعلیم کہ اچھا ہونے کی نصیحت کرتے رہو چاہے تم خود اچھے نہ ہو اسطرح ایک دن تم خود بھی کہتے کہتے سدھر جاؤ گے۔ یوں کافی لوگ اچھی اور بری دونوں راہیں اپنائے رہتے ہیں۔
۳- صرف عبادات پر زور دینا ، خاصکر اس بات کی تبلیغ کہ عبادات درست طریقے سے کرو باقی تمام کام خودبخود ہو جائے گا۔
۴ - بغیر محنت کھانے کی ترغیب، اس حدتک کہ اکثر مستقل طور پر رشتہ داروں پر بوجھ بنے رہتے ہیں۔
اس تحریک کو ایک مضبوط بنیاد دینے کیلئے صرف اتنا کرنا ہی کافی ہوگا کہ تبلیغ کی نصابی کتاب 'فضائل اعمال' میں ایک باب کا 'معاملات' کے عنوان سے اضافہ کر دیا جائے۔ اس میں بچّوں، پڑوسی، غیر مسلموں، گھر، والدین، اساتذہ اور میاں بیوی کے جو حقوق اسلام نے مقرّر کئے ہیں درج ہوں۔ ساتھ اس میں یہ بھی ہو کہ چوری، جھوٹ، ظلم اور دوسری برائیوں کے بارے میں اسلام میں کس حدتک ممانعت ہے۔ خدا ہم سب کو نیکی کی توفیق دے۔

Share this
No votes yet

Contact Author

Give feedback to author about this article.
CAPTCHA
This question is for testing whether you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.