پرولتاریہ اور بورژوا انقلاب کے نتائج اخذ کرتے ہوئے کارل مارکس نے اپنی کتاب’’ قدر زائد کے نظریات‘‘ میں لکھا کہ انقلاب لانے کیلئے کسی بھی ایسے نظریے کا ہونا ضروری ہے جو کہ عوام کی حقیقی ضروریات اور بنیادی تضادات کی عکاسی کرے ایسے نظریے کو جب عوام قبول کر لیتے ہیں تو وہ ایک مادی طاقت بن جاتا ہے اور اس سے آنیوالے انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا اور انقلاب کی کامیابی کیلئے نہایت ضروری شرط انقلابی آمریت کا قیام ہے کسی انقلاب کے بعد ریاست کی تنظیم کیلئے آمریت ناگزیر ہے کیونکہ انقلاب دشمن (وہ لوگ جو انقلاب کے باعث متاثر ہوئے ہیں) تاریخ کا دھارا واپس موڑنے کے ارادے سے اپنی قوتیں مجتمع کر رہے ہوتے ہیں اور اگر انہیں موقع ملے تو وہ ریاست پر اپنا تسلط جما کر عوام کو انقلاب کے ثمرات سے محروم کر دیتے ہیں۔
وطن عزیز پاکستان دو قومی ’’نظریے‘‘ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا جب دو قومی نظریے کو عوام نے قبول کیا توان کے ذہن میں اس مملکت کا تصور تھا جہاں اسلام کے منافی کوئی کام نہیں کیا جائے گا ،جہاں کوئی ان کا استحصال نہیں کریگا ،جہاں کوئی ایک دوسرے کا گلہ نہیں کاٹے گا اور نہ ہی کسی کی عزت و آبرو کو پامال کیا جائیگا ،دو قومی نظریے کو عوام نے قبول کیا اور تحریک پاکستان چلائی جس کے باعث حکومت برطانیہ کو 8جون 1947ء کو تقسیم ہند کا اعلان کرنا پڑا اور 14اگست1947ء کو پاکستان نے باقائدہ آزاد ریاست ہونے کا سرکاری اعلان کیا دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہونیوالی ریاست پاکستان پر قائد اعظم محمد علی جناح کی آنکھیں بند ہوتے ہی جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے نے سیاسی میدان پر قبضہ کر لیا اور اپنے مفادات کی خاطر ملک کو مسلسل داؤ پر لگانے کی کوشش کرتے رہے اور کرتے چلے آرہے ہیں کبھی کسی نواب نے مسند اقتدار پر اپنا تکیہ جمایا تو کبھی کوئی سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر آیا تو کبھی کسی فوجی آمر نے ڈنڈے کے زور پر اقتدار پر قبضہ جمایا ۔
1956ء میں پاکستان کے پہلے دستور کی تشکیل کے بعد گورنر جنرل کا عہدہ صدر مملکت کے عہدے میں تبدیل ہو گیا( اگر چہ پاکستان میں پارلیمانی نظام رائج ہے لیکن درحقیقت طاقت کا اصل سرچشمہ صدر ہی ہوتا ہے ) جس کی وجہ سے اس وقت کے گورنر جنرل سکندر مرزا نے پہلے صدر مملکت کے طور پر حلف اٹھایا اور 7اکتوبر 1958ء تک پاکستان کے پہلے صدر رہے ۔8اکتوبر 1958ء کو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگایا اور اس کے بعد سکندر مرزا صرف 20دن صدر رہے ایوب خان نے ان سے استعفی لے کر انہیں گھر بھیج دیا ۔ 1960ء میں ایوب خان نے B-D سسٹم کے تحت انتخابات کرائے جس میں 80 ہزار نمائندے منتخب ہوئے اور انہوں نے ایوب خان کو صدر بنایا 25مارچ 1969ء کو عوامی دباؤ کے نتیجے میں ایوب خان نے اقتدار فومی کمانڈر انچیف جنرل محمد آغا یحےی کو سونپ دیا جو 25مارچ 1967سے لے کر 20دسمبر 1971تک حکمران رہے اور 20 دسمبر 1971ء کو انہوں نے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ دیا 20دسمبر 1971ء سے 13اگست 1973ء تک ذوالفقار علی بھٹو بطور سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پاکستان کے حکمران رہے ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں انتخابات کرائے اور خود وزیر اعظم بن گئے جبکہ انہوں نے صدر چوہدری فضل الہی کو بنایا 5جولائی 1977کو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا اور 16ستمبر 1978ء کو چوہدری فضل الہی سے صدارتی اختیارات لے کر خود صدر بن گئے اور اس طرح 16ستمبر 1978ء سے لے کر 17اگست 1988ء تک جب تک ضیاء الحق حیات رہے ملک پر حکمرانی کرتے رہے 17 اگست جنرل ضیاء الحق کی طیارہ حادثے میں موت کے بعد انتخابات ہوئے اور بینظیر بھٹواقتدار میں آئیں بینظیر بھٹو کی حکومت کو اس وقت بینظیر بھٹو کی حکومت کو اس وقت کے صدر غلام اسحق خان نے برطرف کیا اور پھر نومبر 1990ء میں انتخابات ہوئے اور میاں محمد نوازشریف پاکستان نے وزیر اعظم بنے صدر غلام اسحق خان نے ہی نوازشریف کی حکومت کو بھی برطرف کیا تو نوازشریف سپریم کورٹ چلے گئے جہاں عدالت عظمی نے ان کی حکومت بحال کر دی اس کے بعد غلام اسحق خان سے نوازشریف کی نہ بن سکی اور بالآخر 1993میں دونوں مستعفی ہو گئے اس کے بعد پھر انتخابات ہوئے اور پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی بینظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بنیں اور فاروق لغاری کو صدر منتخب کرایا اس کے بعد فاروق لغاری نے ہی بینظیر کی حکومت پر کرپشن کا الزام لگا کر ان کی حکومت کر برطرف کرایا اس کے بعد 1997ء میں پھر سے انتخابات ہوئے اور نوازشریف دو تہائی اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور انہوں نے محمد رفیق تارڑ کو صدر منتخب کرایا 12 اکتوبر 1999ء کو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف نے نوازشریف کی حکومت کا خاتمہ کیا خود چیف ایگزیکٹو بن گئے اس کے بعد20جون 2001ء کو انہوں نے صدر رفیق تارڑ کو برطرف کیا اور خود صدر بن گئے 2002ء میں ایک بار پھر انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ(ق) کے پہلے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی دوسرے چوہدری شجاعت حسین اور تیسرے شوکت عزیز بنے اور مسلم لیگ(ق) نے صدر مشرف کو وردی میں صدر منتخب کرایا اور اس طرح طاقت کا محور صدر جنرل پرویز مشرف ہی رہے 18مارچ 2008ء کو جنرل مشرف کی زیر نگرانی انتخابات ہوئے اور ق لیگ کے سواتقریبا تمام جماعتوں نے مل کر حکومت بنائی اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم منتخب ہوئے 18اگست 2008ء کو جنرل پرویز مشرف مستعفی ہوئے اور آصف علی زرداری صدر پاکستان منتخب ہوئے یہ تھی پاکستانی خاک نشینوں کے ارباب اختیار کی کہانی ،اور اس کہانی کا تلخ پہلو یہ ہے کہ تمام حکمرانوں نے سوائے وعدوں اور تسلیوں کے قوم کو کچھ نہیں دیا انہوں نے ایوان اقتدار تک کا سفر کئی خاک نشینوں کے خون کی بدولت حاصل کیا جنہیں سیاسی کارکن کہا جاتا ہے لیکن اس کے بعد ان کے اہل خانہ کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا کہ ان کیلئے قربانی دینے والوں کے اہل خانہ کس حال میں ہیں؟ یہ سیاستدان تخت اور تاج کو اپنی وراثت سمجھتے ہیں اور حکومت کو اپنے گھر کی لونڈی اور جو غریب لوگ انہیں ووٹ دے کر ایوان اقتدار میں لاتے ہیں انہیں یہ طوق ملامت سمجھتے ہیں اپنے تخت اور تاج کو بچانے کیلئے ہر قسم کی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ مصلحت کے نام پر قران کو بھی ڈھال بنا لیتے ہیں،اور جب ایوان اقتدار میں ہوتے ہیں تو سزا اور زوال کو حرف غلط کی طرح بھول جاتے ہیں اور جب واپس عوام میں آتے ہیں تو دوبارہ خوش نما نعرے لگانے شروع کر دیتے ہیں یہ انہی سیاستدانوں کے کارنامے ہیں کہ ہزاروں لوگ زندگیوں سے بیزار ہیں،خود کشیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جرائم میں اضافہ ہو گیا ہے بلکہ بچوں کے اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی بڑھ گئیں ہیں،ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ سمیٹ کر بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں اور سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے بالکل تیار نہیں ایک سیاستدان قوم کو سول نافرمانی کا درس دیتا ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ میں نمٹنا جانتا ہوں سیاستدانوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عوام میں اب ان کیلئے نفرت پائی جاتی ہے جب ملک میں افرا تفری ہو ،ظلم و ناانصافی ہو ،حکمران عیاشیوں میں مصروف ہوں اور عوام محو فاقہ کش ہوں تو نفرت کا پیدا ہونا ضروری ہے،آج افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر بحال ہو چکے ہیں ،ان کی بحالی وکلاء اور سول سوسائٹی کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں ہوئی ہے ،ویسے تو پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ عدلیہ نے ہمیشہ ہی نظریہ ضرورت کو فروغ دیا ہے اور اس کے تحت فیصلے کئے ہیں لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عدلیہ نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کیلئے دفن کردے اور سیاستدانوں کیلئے صرف اتنا کہوں گا کہ اب بھی کچھ نہیں بگڑا صرف پتے اور شاخیں مرجھائی ہیں سیاستدان اپنا قبلہ درست کر کے خود کو بھی بچاسکتے ہیں اور ملک و قوم کو بھی وگرنہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کئے جانے والے ملک میں اگر عوام نے دو طبقاتی نظریے کی بنیاد پر سیاستدانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا تو کیا ہوگا؟ آج پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے وہ وہی مقام ہے جب فرانس میں انقلاب آیا تھا ،خدادار حکمران اور سیاستدان اپنے باہمی جھگڑوں میں قوم کے ساتھ نہ کھیلیں بس اتنا یاد رکھیں جو قومیں ماضی بھلا دیتی ہیں ان کا نام و نشان باقی نہیں رہتا۔