سوالیہ تحریری حقائق از فرخ نور

Farrukh Noor's picture

خیالات کے بے ہنگم ہجوم میں سوچتاہوں، کہوںتوکیا کہوں۔ پھول کی خوشبو سحر انگیز تاثیر رکھتی ہے۔ لفظوں کے اثرات مابعد ضبطِ تحریرکیاگل کھلا رہے ہیں ،یہ دُنیادیکھ رہی ہے۔ تحریرمیں خیال اچھاہو، تو کیاخوب بات ہے۔
آفرین! اِک نقطہ نظر ہے،دُنیا میں انسان کے رُجحانات کتابوں نے بدلے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بدلی،ممالک کی قسمت بنیحتیٰ کہ زمانے کتابوں کے ٹھہر پائے۔یہ دورکس کتاب کا ہے؟ کتابوں کے انبار میں ،شائید کسی بھی کتاب کادورنہیں چل رہا۔
لکھنے والے رہے نہیں، پڑھنے والے عالم بنے، پڑھانے والے نہ جانے کیا کر رہے ہیں۔ہُوکایہ عالم ٹھہرا کہ زمانے کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ دوڑ اپنی اپنی ہوئی، چوڑ پوری قوم ہوئی۔ مایاکی تلاش میں ، نام کمایا۔فاترالعقل نے زمانہ میں، انجانہ خوف بنایا۔
حادثاتی مصنفین کا حادثاتی دور چل پڑااللہ نہ کرے، یہ قوم بُرے حادثات کا شکارہو۔اعتراض مصنف نہیں، معترض تو متنفر سوچ کی نفرت اور شر انگیزاشاعت سے ہوں۔مغرب دشمن ہے،ہمارامسلمان بھائی لسانی و مذہبی تنازعات کاشکار ہے، ہمارے خلاف ساز ش ہورہی ہے، محبوب بے مروت ہے، زندگی گلیمر ہے حقیقت کیا ہے؟ بس! جو مفروضے پیش ہوئے، وُہ حقیقت ٹھہرے۔آج عام فردکی دسترس میں ایسی ہی کتب دستیاب ہیں۔جو مایوسی کا سبب بن رہی ہیں۔ اصل حقیقت غوروفکر سے محروم!حادثاتی دور کایہ بھی اِک زمانہ ہے۔
محقق قلابے ملاتے ہوئے، بنیادیںہلارہے ہیں، تحقیق کارتحقیق نہیںکررہے۔ اشاعتی ادارے اغلاط سے بھرپور چند نشریات بھی چلا رہے ہیں۔مگرمیںمایوس نہیں۔ اِن حالات میں بھی، اس قوم میں چند نَول کِشور(۱) صاحب جیسے ناشر موجود ہیں۔
دولفظ بولنے والا لکھنے والاہو گیا، چار باتیں جاننے والا محقق بن گیا،کسی کو متاثر کرنے کی کوشش میں ناکام ہو جانے والا شاعر بن بیٹھا۔سستی شہرت والوں نے بہت کچھ لکھ ڈالا۔ مگر اُنکا مقصد صرف اپنی ذات کی رونمائی ہے۔کاش! ایسے افراد کامقصد قوم کی خدمت ہو جائےتوحقیقی مقصد کے حصول میں سمت کا تعین ہوجائے گا۔
عجیب عجیب تماشہ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔ چور بے خبر بہروپیا کا انٹرویو لے رہا ہے، کتاب چھپی تو معلوم ہوا،تصوف سے نابلد افراد کی گفتگومغربی نفسیا ت پہ چل پڑی، ایک اور سنجیدہ مضحکہ خیزحادثہ۔
دامن بچانے کایہ دور ہے، جس میں ہر شےءگنی جارہی ہے۔ اَگنی کی تعلیم دُگنی، تِگنی،چُگنی سے ہے۔ حادثات ہمارے منتظر ہے،جبکہ ہم کسی خوشنماحادثہ کے انتظار میںٹھہرگئے ہیں۔
حادثہ ہماراہوچکا،کتاب ہماری اورہے۔ تعلیم کسی اورجانب چل پڑی۔ہمارا مصنف آج گنتیوںمیںمصروف ہے،مغرب اپنے جن دانشوروں کی تقلیدپرہے،اُنکا نشوونمائی دور محرومیات اور لالچ سے اثر انداز ہوا۔اُنکے افکا ر سوالیہ نشان!عربی، فارسی اور ہندی سے ہوئے ناواقف ہم،تکیہ ٹھہرا ہمارا تراجم پہ، بھول چکے اپنے مشاہرین اسلام کی اَصل تعلیم کو۔
(فرخ نور)
(۱)نَول کشور:قیام پاکستان سے قبل برصغیرکے نامورپبلشر، جنھوں نے قرآن پاک کی اشاعت بھی فرمائی۔ اُن پر مسلمانوں نے مقدمہ دائر کیا کہ یہ بے حُرمتی ہے۔ وُہ عدالت میں پیش ہوئے اور فرمانے لگے۔ میں ہندو ہوں، مگرمیں چاہتا ہو کہ اس کی اشاعت دیکھو مگرایسا کر نہیں سکتا۔کیونکہ اُس جگہ تمام کام کرنے والے افراد مسلمان ہے، کوئی فرد بغیر وضو اور پاک لباس کے داخل نہیں ہوسکتا۔وہاں استعمال ہونے والے پانی کا نکاس گنگا کی ندی میں ہے(جو ہندوﺅں کے نزدیک پاکیزہ ترین ہے)۔ جس کے لیئے ایک خصوصی نہرکھدوائی گئی ہے۔ اب بھی اگر مجرم ہو تو سزا دے دیجئیے۔ جس پر تمام حاضرینِ عدالت نادم ہوئے۔