متاثرین.. تعدادکا تجزیاتی تعین؟
زبیرا حمد ظہیر
متاثرین کی تعداد کتنی ہوگی ؟یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے تین لاکھ سے شروع ہوکر25لاکھ تک جاپہنچی ہے اور ان لوگوں کی تعداد بھی پانچ لاکھ بتائی جارہی ہے جو متاثر ہوکر رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں متاثرین کی بڑھتی ہو ئی تعداد کے پیش نظر اب حکومت سمیت اس کے ان تمام اتحادیوں میں اختلافات رونما ہونے لگے ہیں ۔ یوں دکھلائی دیتا ہے کہ وزیراعظم کی کل جماعتی کانفرنس میں آپریشن کے حوالے سے ہونے والا اتفاق رائے محض اتحادی ہونے کی رسم تھی جتنے اتفاق سے حکومتی اتحادیوں نے آپریشن کی حمایت کی تھی اس عجلت سے زیادہ اب متاثرین کی مدد کا نام سنتے ہی ہوا اکھڑنے لگی ہے پنجاب سے توگلہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اتحادی نہیں اس نے دامے درمے سخنے قدمے مدد کی، یوںاس نے متاثرین کی صوبے میں آمدسے دامن بچالیا ہے بلوچستان اس قابل نہیں کہ وہ متاثرین کی مدد کرسکے سندھ میں حالت یہ کہ متاثرین کی آمد پر ہڑتالیں ہونے لگی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھ کا دامن وسیع ہے مگر اس کامطلب یہ نہیںکہ اس کا وسیع دامن پھاڑ ڈالا جائے سوال یہ نہیں کہ سندھ میں احتجاج کیوں شروع ہوا یہ انکا حق ہے سوال یہ ہے کہ حکومت نے آپریشن سے پہلے اندازہ کیوں نہیں لگایا کہ متاثرین کی تعداد کتنی ہوگی یہ ہمارا عجیب جمہوری ملک ہے جہاں پچھلے 20سال سے قومی مردم شماری نہیں ہوئی جس ملک میں مردم شماری نہ ہو ئی ہو اس ملک میں نئے ووٹوں کا اندارج کس طرح ہوگا ،آبادی میں اضافے کا تناسب معلوم کیے بغیر نئی حلقہ بندیاں کیسے ہونگی؟ یہ سارے سوالات نہایت اہم ہیں نادرا کا ریکارڈ اول تو کل آبادی کا احاطہ نہیں کرتا دوم نادرا کا ریکارڈ باقاعدہ سروے جیسی مردم شماری کا متبادل نہیں ہوسکتا اس مردم شماری کے نہ ہونے کا سیاسی اور جمہوری نقصان جو ہے وہ رہا ایک طرف مگر جو قومی اور انسانی نقصان ہے اس کی تلافی کیسے ممکن ہوگی ؟
عالمی معاہدوں میں جب کسی ملک کی مردم شماری نہیں ہوتی تو پھر اقوام متحدہ کے اعدادوشمار سے کام لیا جاتا ہے جب کسی ملک کی اپنی مردم شماری اپ ڈیٹ نہ ہو تو اقوام متحدہ کی مردم شماری کیسے دن بدن بڑھتی آبادی کے عین مطابق ہوسکتی ہے آپ اس کی ایک مثا ل دیکھ لیں سعودی عرب تمام ممالک کے حج کوٹے میں جو اضافہ کرتا ہے یہ اس ملک کی کل مسلم آبادی کا 0.1فیصد ہوتا ہے یعنی ایک ہزار میں ایک فرد.. اس وقت ہماری کل آبادی 17کروڑ ہے اس تناسب سے ہمارا حج کوٹہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے کہیں زیادہ بنتا ہے ۔مگر چونکہ سعودی عرب کے سامنے ہم اپنی آبادی میں اضافہ سرکاری طور پر کسی مردم شماری کے مطابق ثابت نہیں کرسکتے ،اس لیے بھارت ہم سے آگے جانے کو ہے۔ اسی طرح ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے ترقی پزیر ممالک کو جوامداد ملتی ہے ان میںڈھیرساری امداد ایسی ہوتی ہے جو ملک کی مجموعی آبادی یا مجموعی غربت کی بنیاد پردی جاتی ہے مردم شماری کے نہ ہونے کی وجہ سے ہم وہ امداد بھی پوری حاصل نہیں کرسکتے، مردم شماری کے تازہ اعداد شمارغیر ملکی سرمایہ کاروں، بیرون ممالک کے تاجروں کو اس ملک کے صارف کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب راغب کرتے ہیں یہ تو مردم شماری کے وہ فوائد ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔جہاں تک اس مردم شماری کے نہ ہونے کا نقصان ہے جمہوری نقصان تو واضح ہے کہ ووٹ کا درست انداراج نہیں کیا جاسکتا اور مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن کو شفاف نہیں کہا جاسکتا ،مکمل آبادی کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بنائے جانے والے سارے حکومتی منصوبے زمینی حقائق کے برخلاف ہوتے ہیں اسطرح کے درجنوں موٹے موٹے نقصان گنوائے جاسکتے آج ہمارا مقصد ان سب میںسے اہم نقصان کی جانب توجہ دلانا ہے ۔مثال کے طور پر 2005میں کشمیر اور سرحد میں زلزلہ آیا جس کی وجہ سے اس جانی ومالی نقصان کا زلزلے کے فوری بعد اندازہ نہ لگایا جاسکا۔
حکومت پہلے جانی نقصان ماننے کو تیار نہ تھی بعد میں پتا چلا کہ ایک لاکھ اموات ہو چکی ہیں اور 35لاکھ لوگ متاثر ہوچکے ہیں حکومت نے اپنی تخمینہ رپورٹوں کا انحصار نادرا پر کیا اور نادرا کی حالت یہ تھی کہ یہ قومی ادارہ متاثرین کا صحیح تخمینہ لگانے میں ناکام رہا جن زلزلہ متاثرین نے حج درخواستیں دے رکھی تھیں اور جب وزارت حج اپنی لسٹوں کو فائنل کرنے لگی تواندازے اور رابطے کا کوئی بندوبست نہ تھا اس نے ان عازمین حج کا ریکارڈ طلب کیا جن کا تعلق مثاثرہ علاقوں سے تھا تو نادرا ان کا ریکارڈ تک نہ فراہم کرسکی اور نہ یہ اندازہ بتلاسکی کہ انکی تعداد کتنی ہوگی اب یہ کہا جائے کہ ان لوگوں نے نادرا کے شناختی کارڈنہ بنوائے تھے تویہ عذر کون مانے گا، حج درخواستوںکے لئے نادرا شناختی کارڈ لازمی ہوتا ہے اس مردم شماری کا جو نقصا ن زلزلے کے دوران ہوا وہ کہانی ابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئی کہ حکومت زلزلہ متاثرین کا ایک ماہ بعد بھی صحیح تخمینہ نہیں لگا سکی تھی ۔
اب سوات اور مالاکنڈ آپریشن کے دوران بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ زلزلے کا تو ایک عذر تھا کہ وہ قدرتی آفت تھی جو بن بتلائے آئی جس کی وجہ سے اندازہ بروقت نہ لگایا جاسکا مگر آپریشن کوتو قدرتی آفت نہیں کہاجاسکتا جاسکتا اوراس ضمن میں یہ عذر لنگ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جنگ زدہ ماحول تھا جنگ زدہ ماحول میںآپریشن کرنے کا اندازہ تو لگایا جاسکامگر متاثرین کی تعداد کا اندازہ کیوں نہیںلگایا جاسکا اس غلطی سے متاثرین کی تعدادکا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے اس وقت ملک بھر کا سب سے بڑا ایشو یہ متاثرین ہیں جنکی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تین لاکھ شروع ہونے والے تعداد بڑھکر 29لاکھ تک جا پہنچی ہے مقامی سیاسی راہنما اس تعداد کو 40لاکھ بتاتے ہیں مگر کشمیر کے زلزلے کی طرح آخر میں یہ کل متاثرہ آبادی 50لاکھ تک پہنچ جائے گی اس لیے کہ اس وقت صرف سوات کی آبادی 18لاکھ سے متجاوز بتائی جارہی ہے سوات سے جڑے متاثرہ علاقے لوئر دیر اور اپر دیر کی کل آبادی کا جو مقامی ماہرین اندازہ بتا رہے ہیں وہ ساڑھے اٹھارہ لاکھ ہے شانگلہ اور بونیر اور ملاکنڈ اور اگلے امریکی ہدف وزیرستان کی کل آبادی ملاکر یہ تعداد 50لاکھ سے کسی طور کم نہیںزیادہ نہ سہی اس 50لاکھ کو حکومت کیسے سنبھالے گی اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔اس طرح کے مسائل اس وقت تک جنم لیتے رہیں گے جب تک قومی مردم شماری نہیں ہوگی۔