مولانا مصوّر مرحوم کے خزانہ ء کلام کی بازیافت

hashims's picture

مولانا مصوّر مرحوم کے خزانہ ء کلام کی بازیافت

ڈلاس، ٹیکساس: جستجو میڈیا، کراچی، پاکستان، نے اپنے ایک بیان میں یہ انکشاف کیا ہے کہ مولانا محمد ابوبکر مصور، جنہیں احسن مارہروی مرحوم نے "ترجمان فطرت" کا لقب عطا کیا تھا، انکا اب تک جدید اردو دانوں کی نظروں سے پوشیدہ خزانہ ء کلام امریکہ میں مقیم مصور خاندان کی مساعدت سے بازیافت کیا گیا ہے۔

بیسویں صدی کے اوائل کا یہ دل چسپ، فلسفیانہ اور روایتی اخلاقی اقدار سے بھرپور کلام، ایک ویب کتاب "کائنات کلام و نقوش مصور" کی شکل میں فوری طور پر شائع کردیا گیا ہے۔ منتخبہ کلام کا کاغذی مطبوعہ ورژن اس برس کے آخرتک شائع کردیا جائے گا۔ اردو کلاسیکی شاعری کی یہ تحریریں اُس اتھل پتھل کے دور میں تخلیق کی گئیں، جب کہ برصغیر ہندوستان میں صنعتی انقلاب، برطانیہ سے آزادی کی تحریک، اور دوقومی نظریہ پر مبنی سماجی کشمکش جاری تھی، اور روایتی اخلاقی اقدار روبہ زوال تھیں۔ اس مضطرب عرصہ ء حیات میں ادبا اور شعراء کرام نے اپنے اپنے قلم سے تعلیمی اور تبلیغی جہاد جاری رکھا۔

جستجو میڈیا، کراچی، پاکستان نے اس کلام کو محترمہ راشدہ حفیظ صدّیقی مصور، ڈلاس ٹیکساس، اور گوگل کی اعانت سے ویب پر پیش کیا ہے۔ اسے گوگل کے مندرجہ یوآرایل پتہ پر دیکھا جاسکتا ہے: ۔۔

Justuju - Musavvir Poetry کلام مصوّر
http://justuju-mosawwer.blogspot.com/

مولانا محمد ابوبکر مصور 1980-- ۔۔ 1900 کا یہ کلام دنیا بھر کے اردودانوں، طلباء، اور محققین کے لیے ایک گنجینہ ء بے بہا کی حیثیت رکھتا ہے۔

جناب مولانا مصوّر کے چند منتخب اشعار یہاں پیش خدمت ہیں:

عشق کی ہر افتادگی، ہوگئی باعثِ عروج
یوسف دل مرا گرا، لیکے فلک کو چاہ میں

فقط اک گریہء حسرت ہے اپنے غمگسارون میں
اسی کو بیکسی میں مونس و ہمدم سمجھتے ہیں

اشک کی طرح گرایا ہو جسے دنیا نے
وہی انسان یہاں پیکرِ عظمت کیوں ہو

ساکنِ کشتیء ایماں ہے تو پھر اے ناخدا
بحرِ طوفان خیز میں بھی حسرتِ ساحل نہ ہو

ہنس رہے ہیں گریہء شبنم پہ گُل
شاد کیسے فطرتِ ناشاد ہو

مصور باغ عالم کی بہت کچھ سیر کی ہمنے
نظر آئی ہمیں تو بے ثباتی ہرگل تر میں

ہر ایک قلب کی دھڑکن میں ہے یہی کھٹکا
سکونِ دل تو مرا وجہ اضطراب نہیں

جو وجود اسکا مانتے ہی نہیں
اپنی ہستی کو جانتے ہی نہیں

جہاں میں ہیں جنھیں حاصل عروج ہستی کے
بشر وہ خاک میں آخر ملائے جاتے ہیں

کیا پوچھتے ہو تم حسن بیاں کیا دیکھتے ہو تم رنگ زباں
ہے یہ بھی کمال مصور کا تصویرمیں رنگ جو بھرتے ہیں

اور سب کچھ مانگتا ہے تجھ سے تجھکوچھوڑکر
تجھ سے تجھکومانگ لے یہ ہمّتِ سائل نہیں

روشن چراغ اس سے مری زندگی کا ہے
ناصح کریگا کیا مرے دل کی بجھاکے آگ

عقل و دانش کے حجابوں ہی میں پوشیدہ رہی
روح آنکھوں کو نظر آئی نہ عریا ں آ ج تک

کرتی ہے رقص ہردم اہل زمیں کی قسمت
اے آسمان تیری تاروں بھری جبیں پر

* * * *

Hashim Syed Mohammad bin Qasim
Researcher, Writer, Publisher, Sociologist, HR, O&D, and ICT Consultant
JUSTUJU MEDIA (The QUEST) Syndication, Research and Publishing, Pakistan
Current Affairs Analyst: Radio Channel Islam International, Johannesburg, South Africa
eMail: justujumedia@gmail.com

Share this
No votes yet