چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی


دہلی یعنی بڑا شہر— چھوٹے سے قصباتی شہر میں رہ کر اس شہر کا تصور بھی کر پانا مشکل تھا. مجھے اس شہر سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ہجرت کیا ہوتی ہے۔ اپنے گھر کا سکھ کیا ہوتا ہے۔ یہاں تو در در کی ٹھوکریں تھیں اور خالی ہاتھ تھے. دہلی، دل والوں کی دہلی نہیں تھی، تنگ دل لوگوں کی دہلی بن کر رہ گئی تھی۔ بے شمار خطرات، ذہنی تکالیف، پریشانیاں. بہت ممکن ہے میں ہار گیا ہوتا۔ مگر میں نے جو کچھ پڑھا تھا اب وہی میرے کام آرہا تھا۔ کہتے ہیں ایک زندگی وہ ہوتی ہے جسے آپ اپنے طور پر جینے کی کوشش کرتے ہیں. ایک زندگی وہ ہوتی ہے جو آپ کا ’مطالعہ‘ آپ کا وژن آپ کو سونپتا ہے. الیکزینڈ پُشکن، نیکولائی گوگول، فیو در دوستو فسکی، لیوتالستائے، میخائل شولو خوف، میکسم گورکی، ترگنیف. روسی ادب کا ذخیرہ تھا اور یہ عظیم تخلیق کار میرے لیے حوصلہ اور امیدوں کے مرکز تھے—ان سب کے یہاں زندگی سے لڑنے کی جسارت موجود تھی۔ خاص کر آرا چھوڑنے سے قبل ایک روسی مصنف کی ایک کتاب میں نے پڑھی تھی۔ بورسپولوو‘ کتاب کا نام تھا۔ اسٹوری آف اے رئیل مین. ایک فوجی جس کا پاؤں کاٹ ڈالا جاتا ہے جو اپنے ’ول پاور‘ سے اپنی خود اعتمادی‘ دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے. مجھے ہیمنگ وے کے ’’د اولڈ مین اینڈ دسی‘‘ سے محبت تھی. ہیمنگ وے کی کہانیوں کے کا یہ بوڑھا آدمی مجھ میں نیا جوش‘ نیا دم خم بھرنے کے لیے کافی تھا۔ مجھے ہینری ملر کے موبیڈک سے پیار تھا. وکٹر ہیوگو، کافکا، ورجینا اُلف، البیر کامو، یہ سارے میرے اپنے تھے۔
خاص کر ’’لس مسریبل‘‘ کا پادری اور دپلیگ کا ڈاکٹر ری اوکس میرا آئیڈیل تھا۔ ٹھیک اُسی طرح ’’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘‘ کارسکلانکوو، گورکی کی ’مدر‘ کا پاویل ولا ’سوف‘ اور ترگنیف کی ’’د فادر اینڈ دسن‘‘ کے باپ بیٹے مجھے بے حد پیارے تھے. گوگل کی کتاب ’ڈیڈ سول‘ مجھے ذہنی عذاب میں مبتلا کرتی تھی۔ وہیں گبریل کا گارسیا مار کیز کا ادب ایک نئی سمت میں لے جانے کی تیاری کر رہا تھا. عجیب بات تھی کہ مجھے الکزینڈر لزنسٹین سٹین سے بھی اسی قدر محبت تھی۔ گلارگ آرکپلاگو اور کینسر وارڈ دونوں مجھے پریشان کر رہے تھے۔ نیتھینل کی داسکا رلٹ لیٹر بھی مجھے پسند تھی۔ جارج آرول کی انیمل فارم اور 1984 مجھے نئی فکر سے روشناس کرا رہے تھے۔
میں سال بیلو کو بھی پڑھنا چاہتا تھا۔ ولیم گولڈنگ اور گراہم گرین کو بھی. اردو میں قرۃ العین حیدر کے یہاں مجھے جوائس کی جھلک ملتی تھی۔ منٹو چونکاتا تھا۔ لیکن فکری اعتبار سے زیادہ بلند نہیں لگتا تھا۔ عصمت مجھے راس نہیں آئی۔ راجندر سنگھ بیدی کی کہانیاں ہر بار زیادہ سے زیادہ قربت کا احساس دلا رہی تھی اور کرشن کی ’نثر‘ کسی جادو کی طرح مجھ پر سوار تھی— مجھے اردو کی داستانوں نے لبھایا تھا۔ اور مجھے لکھنا سکھایا تھا۔ مجھے پنچتنر بھی پسند تھی اور دُمیجک ماؤنٹین‘ بھی— طلسم ہوشربا کا تو میں شیدائی تھا۔ دہلی کی پاگل بھیڑ بھری سڑکوں پر ہیمنگوے کا ’د اولڈ مین سمندری‘ بوڑھے کی طرح مجھ پر سوار تھا— دہلی کی پریشان حال زندگی اور لڑتے رہنے کا جذبہ— 85 سے 95 تک کے درمیان میری کہانیوں پر ترقی پسندانہ رنگ غالب رہا— میں سوچتا تھا ’نثر ‘ کو غریبی کے بدحال جسم کی طرح ہونا چاہئے۔ گلیمرلیس— اس کی زبان ’عصمت‘ کی کہانیوں کی طرح نہیں ہوسکتی۔ میں نے اپنا جائزہ لیا اور ایک نئی روش اپنائی۔ نئے ڈگر پر چلا۔
’بھوکا ایتھوپیا‘— بچھو گھاٹی، مرگ نینی نے کہا، میں ہارا نہیں ہوں کامریڈ، ہجرت، مت روسالگ رام، فنی لینڈ، پربت، مہاندی، تحفظ، تحریکیں، کان بند ہے، جلا وطن، ہندستانی، دہشت کیوں ہے، کتنا وش، سئور باڑی، تناؤ وغیرہ— میری کہانیاں تقسیم کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں۔ آزادی کے پندرہ برس بعد میں پیدا ہوا تھا۔ لیکن میرے ہوش سنبھالنے تک یہ زخم تازہ تھا۔ بوڑھے بزرگ ہونٹوں پر تقسیم کا درد زندہ تھا اور کراہتا تھا— غلامی میرے لیے ایک بھیانک تصور تھا، اور آزادی کے بعد کے فسادات میرے نزدیک انتہائی بے رحم، خوں بھری سوغات کی طرح تھے۔
میں اپنی زمین نہیں چھوڑ سکتا تھا—
میں مسائل کو نظر انداز کر کے، قلم نہیں اٹھا سکتا تھا۔
فساد— ہندو مسلمان، اردو اور پاکستان میں کئی چیزیں ملتی جلتی تھیں— مجھے ڈر لگتا تھا۔ جب خوف کی چنگاریاں بند کمرے میں سہما سہما میرا چہرہ دکھایا کرتی تھی۔ میں سوچتا تھا، کیوں ہوتا ہے ایسا—
گاندھی جی کا قتل ہوتا ہے مسلمان اپنے اپنے گھروں میں چھپ جاتے ہیں— کسی مسلمان نے مارا ہو تو؟
خدا ناخواستہ قاتل کوئی مسلمان ہوا تو؟
اندرا گاندھی کا قتل ہوتا ہے، مسلمان اپنے اپنے گھروں میں چھپ جاتے ہیں۔
راجیو گاندھی کی ہتیا ہوتی ہے، مسلمان اپنے اپنے گھروں میں چھپ جاتے ہیں۔
کیوں؟ کیوں؟
میں ترقی پسندی کے راستے اس لیے چلا کہ میں ان سوالوں سے بچ بچ کر نہیں گزر سکتا تھا— میرے اندر کا تخلیق کار ان سوالوں کو نظر انداز نہیں کرسکتا تھا۔
ایسے بہت سارے سوالوں کو تلاش کرتے ہوئے میں ایک نئے کردار سے ٹکرایا— غلام بخش۔ اس کردار کو کہانی میں ڈھالتے ہوئے مجھے میرے سارے سوالوں کے جواب مل گئے تھے۔

غلام بخش کو میں نے جان بوجھ کر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام سے منسوب کیا۔ غلام بخش محض ہندستانی مسلمانوں کے درد سے گزرنے والی کہانی نہیں تھی۔ کیونکہ اس طرح کی کہانیاں ایک دو نہیں بلکہ پچاس سے زیادہ لکھ چکا تھا۔ وہی شک کی فضا۔ وہی ہر بار اسکول سے لے کر عام زندگی میں ہونے والا سلوک۔ وہی جن سنگھ، بی جے پی اور آر ایس ایس۔ اب مسلمانوں کی جانب سے ہونے والے ایک سنسنی خیز اعلان کی ضرورت تھی۔ اورمیں نے غلام بخش کے کردار کے حوالے سے یہ اعلان کرتے ہوئے کوئی ہچک محسوس نہیں کی۔
’’مرا بھی کمبخت تو اپنے اُسی باپ دادا والے گھر میں۔‘‘
یہ اپنے ’ہندستانی‘ ہونے کا اعلان تھا۔ میں نے ادب میں کرداروں کو جیا ہے۔ کردار میرے نزدیک ہوا میں لٹکے ہوئے نہیں ہیں۔ میں انہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر لکھنے کی حد تک گوارا نہیں کرسکتا— ان کی موت پر سوسو آنسو بھی بہاتا ہوں۔ سب سے پہلے علام بخش کا تذکرہ کرتا ہوں— یہ کردار میرے ذہن میں کیسے آیا۔
بہت ممکن ہے آپ اُسے بار بار بھی دیکھتے تب بھی کوئی خاص بات اس میں آپ کونظر نہیں آتی۔ لیکن پہلی بار ہی علام بخش مجھے اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب رہا تھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے ہلکی ہلکی سردیاں پڑنی شروع ہوئی تھیں۔ 1986کا زمانہ رہا ہوگا۔ نومبر یا دسمبر کا مہینہ۔ میرے بدن پر ایک پرانا کوٹ تھا۔ پرانے کوٹ میں کتنی ہی پرانی یادیں بسی تھیں۔ تیز تیز چلتے ہوئے کوٹ کے دونوں حصے جھولنے لگے تھے۔ آصف علی روڈ پر اسٹار پاکٹ بکس کا دفتر تھا۔ میرے ہاتھوں میں ناول کا مسودہ تھا۔ دروازہ پار کرتے ہی کوٹ کا ایک حصہ دروازے کی کنڈی میں پھنس گیا۔ جلد بازی میں نکلنے کی کوشش میں، میں ایک شخص سے جاٹکرایا— مگر یہ کیا— وہ شخص اپنی دھن میں مست تھا۔ نہ اس نے میری جانب دیکھا۔ نہ ہنسا، نہ غصہ ہوا، وہ بس کچھ بڑبڑاتا ہوا مسکرائے جارہا تھا۔
’’پاگل ہے‘‘—
میں نے دل میں سوچا۔ دوبارہ اس کی جانب دیکھا۔ مگر اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ ویسے ہی بڑبڑائے جارہا تھا۔ بڑبڑاتا ہوا کبھی کبھی ہنسنے بھی لگتا۔ اسے اس بات کا احساس بھی نہیں تھا کہ کوئی اسے بغور دیکھ رہا ہے— بیچارا غلام بخش— لیکن یہ نام تو میری ایجاد تھی۔
مجھے پتہ بھی نہیں چلا۔ وہ ایک دم سے اچانک میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا— ’مجھے لکھو۔ تمہیں مجھے لکھنا ہی ہوگا۔‘‘

مجھے کچھ چیزیں پاگل کردیتی ہیں۔ کبھی کوئی البیلا سا قصہ۔ کوئی دلچسپ سی کہانی اور شاید ہمیشہ سے ہی ایسا ہوتا آیا ہے کہ کوئی کردار آلتی پالتی مار کر میرے سامنے بیٹھ جاتا ہے— ’مجھے لکھو—‘
مجھے ان لوگوں پر رشک آتا ہے جو صرف نئے نئے کردار ہی نہیں گڑھتے، بلکہ اپنے کرداروں کے بارے میں اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ جیسے یہ محض فرضی یا تصوراتی کردار نہ ہوں، بلکہ چلتے پھرتے آدمی ہوں. زندہ مخلوق ہوں. ابھی کچھ دنوں پہلے میں فزیگرینس آف گوارا‘ پڑھ رہا تھا۔ مار حیز نے اس کتاب میں اپنی کہانیوں اور کرداروں سے متعلق ایسی ایسی باتیں کی ہیں، کہ اس پر رشک کرنے کو جی چاہتا ہے۔ بہت چھوٹی چھوٹی سی چیزیں‘ واقعات— مثلاً گھر کا کوئی شخص کہانی کا کردار کیسے بنا۔ وہ اس کردار میں فٹ نہیں ہو رہا تھا مگر کردار کے لیے اسی کا سراپا، اور تیور کی ضرورت تھی۔ پھر یہ کیسے ممکن ہوا۔ آس پاس گھومتا ہوا کوئی آدمی، رشتے دار عزیز، دوست ایکدم سے کہانی کا کردار نہیں بن جاتا۔ ہاں کبھی کبھی وہ یوں بھی کہانی میں سماجاتا ہے کہ کہانی کا ہی ایک حصہ لگنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی محض ایک کردار کو تین چار کرداروں سے بھڑانا پڑتاہے— تب جاکر ایک دلچسپ کردار کھڑا ہو پاتا ہے۔
’ذبح‘ کا عبدل سقّہ ہو، یا ’بیان‘ کا بال مکند شرما جوش، میں ہارا نہیں ہوں کامریڈ، کاونے بہاری ہو— سپنے دیکھنے والا ’مسیتا‘ ہو— یا جن سنگھی خاندان میں پیدا ہونے والی مرگ نینی— میں ہر بار اپنے کرداروں کے ساتھ رہا ہوں۔ جیا ہوں اور مرا ہوں—
میں ہر بار اپنی روح میں جاگتا ہوں۔ میرے کردار میرے سامنے آتے ہیں تو جیسے اچانک خدا یا خالق بن جاتا ہوں۔ اب جان گیا ہوں وہ سب میرے کردار ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی کسی کی بدنصیبی پر افسوس تو آتا ہے، لیکن خدایا خالق تو ’گجرات‘ کی بدنصیبی پر بھی آنکھیں بند رکھتا ہے— کرداروں کے لیے دوڑتا تو ہوں مگر ان کے لیے میرا رویہ عام طور پر اُداسی سے بھرا ہوتا ہے— کہ جیسے یہ تو ہونا ہی تھا— اس کردار کو تو مرنا ہی تھا—‘
رابطہ: ڈی 304، تاج انکلیو
لنک روڈ، گیتا کالونی، دہلی ۔31


Comments

ArDEqqyyygoZ

CF9wNn bogdquogroog, [url=http://dwlzomnvwpsb.com/]dwlzomnvwpsb[/url], [link=http://syggjntmbhkg.com/]syggjntmbhkg[/link], http://jdzqzbmtsgrg.com/