کردار؟


٭.اس مسلمہ حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ معیشت قوموں کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،قومیں فیکٹریاں،سٹاک ایکسچینجوں،برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر سے آگے بڑھتی ہیںاور جس ملک میں جتنی زیادہ فیکٹریاں اور جتنے بڑے بازار ہوتے ہیں وہ ملک اتنا ہی بڑا اور اتنا ہی ترقی یافتہ ہوتا ہے۔لیکن بازاروں.فیکٹریوں.زرمبادلہ کے ان ذخائر اور سٹاک ایکسچینجوں کے علاوہ بھی کچھ ایسی چیزیں ہو تی ہیں جو ملکوں.قوموں اور معاشرے کے لیے ناگزیر ہو تی ہیں۔ان چیزوں کے بغیر ملک ملک تو ہو سکتے ہیں،قومیں،قومیں بھی ہو سکتی ہیں،لیکن ہم ان قوموں اور ان ملکوں مہذب قوم اور ملک نہیں کہہ سکتے۔ہمارے حکمران معیشت کو ترقی اور عروج کہتے ہیں جبکہ عام آدمی صرف روپے پیسے اور ڈالر کو ترقی اور قوم سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔صاحبو،جس ملک میں سفارش کے بغیر مریض ہسپتال داخل نہیں ہو سکتا.جہاں سفارش کے بغیر کاغذات کی تصدیق نہیں ہو سکتی.جہاں سفارش کے بغیر آپ کا قومی شناختی کارڈ نہیں بن سکتا.جہاں بغیر سفارش کے ایم اے پاس نوجوان کو کلرک کی نوکری نہیں مل سکتی.جہاں سفارش کے بغیر اصلی ہولناک اور قرب ناک واقعہ کی ’’ایف آئی آر‘‘ درج نہیں ہو سکتی.جہاں سفارش کے بغیر کسی المناک حادثہ کا مقدمہ دائر نہیں ہو سکتا.جس ملک میں سفارش کے بغیر انصاف،اور انصاف کرنے والوں کو تحفظ میسر نہیں.یقیناََ اس ملک کو اس قوم کو ترقی یافتہ اور مہذب کہلانے کا کو ئی حق نہیں۔

کنفیوشش چین کا مشہور فلسفی تھا.وہ ایشیائ کی دانائی کہلاتا تھا.چین کے قدیم بادشاہ اس سے دانائی سیکھتے تھے.ایک بار چین کا مشہور بادشاہ ’’وین وینگ‘‘کنفیوشش کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کنفیوشش سے پوچھا’’انسان کو اپنا کون سا وصف ہر صورت برقرار رکھنا چاہئے‘‘وقت کے سب سے بڑے فلسفی نے بلا تامل جواب دیا’’کردار‘‘بادشاہ خاموشی سے سنتا رہا،کنفیوشش بولا’’انسان کے تمام اثاثے فنا ہو جا تے ہیں،لیکن اس کا کردار صدیوں تک زندہ رہتا ہے.ہم زندگی بھر اپنے جسم ،اپنی دولت،اپنی زمین،اپنی جائیداد،اور پانے اقتدار کی حفاظت کرتے رہتے ہیں،لیکن ایک دن یہ تمام چیزیں ہمارا ساتھ چھوڑ جاتی ہیں اور ہم محرومی اور تاصف کے گہرے احساس کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں.جب ہم فانی چیزوں کے لیے کوشش کرتے ہیں تب ہم بھول جا تے ہیں کہ قدرت نے کردار کی شکل میں ہمیں ایسے عطیے سے نواز ا ہے جو کبھی فنا نہیں ہو گا.ہم اپنے اصل جوہر کو فراموش کر دیتے ہیں چنانچہ ہم اربوں کوگوں کی طرح چپ چاپ مٹی میں مل جا تے ہیں.ہمارے بعد لوگ ہمارا نام تک بھول جاتے ہیں.کنفیوشش نے مزید کہا کہ اگر ہم عارضی کا میابیوں کی بجائے اپنے کردار پر توجہ دیں،ہم اس کی حفاظت کریں،اسے مضبوط اور خوبصورت بنائیں تو ہم سینکڑوں، ہزاروں سال زندہ رہ سکتے ہیں‘‘ یہی زندگی ہے.ترقی ہے.خوشحالی ہے.صاحبو،ہرشخص کے ہاتھ میں موبائل ہو نے کوترقی کہنے والے.ذر مبادلہ کے ذخائرکے ذخائر کا اعلان کرنے والے شایدیہ بھول جا تے ہیں کہ ہم اپنے ہی ملک میں رشوت اور سفارش کے بغیر پانی کا نلکہ نہیں لگوا سکتے.ہم رشوت اور سفارش کے بغیر جائیداد نہ خرید سکتے ہیں اور نہ ہی بیچ سکتے ہیں.آپ کو اپنے میں ملک میں رہتے ہو ئے،اس ملک کا معزز شہری ہو تے ہو ئے پانی،بجلی،ٹیلی فون،اور گیس کے کنکشن کے لیے سفارش چاہئے.عدالت اور ضلع کونسل سے ’’نقل‘‘ کے لیے سفارش چاہئے.آپ کو بل جمع کروانے کے لیے سفارش چاہئے.آپ کو بس، ریل کار،اور جہاز میں سیٹ ،حج ادائیگی کے متعلقہ معلومات .جاری انتظامات کے لیے اعلیٰ افسر کی سفارش چاہئے.تعلیمی بورڈ سے کامیابی کی سند ،سرٹیفکیٹ،اور ڈگری کے حصول کے لیے سفارش چاہئے.آپ کو بینک سے قرضہ اور ڈاک خانے سے ’’پنشن‘‘کے لیے سفارش چاہئے.عمرہ کے ویزے اور سفر پر جانے کے لیے لگوائے جانے والے حفاظتی ٹیکوں کے سرٹیفکیٹ کے لیے سفارش چاہئے.نکاح نامہ کے لیے سفارش چاہئے.خون کی بوتل لینے کے لیے سفارش چاہئے.آپ کو خالص اشیائ اور صاف ستھرے پانی کے لیے سفارش چاہئے.اصلی ٹیکہ،اصلی ویکسین،اور اصلی سرنج کے لیے سفارش چاہئے.خالص پیٹرول اور ایک نمبر سیگریٹ کے لیے سفارش چاہئے.آپ اس ملک میں سفارش کے بغیر الیکشن نہیں لڑ سکتے.بینک میں اکاونٹ نہیں کھلوا سکتے.اور تو اور قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتے.جس ملک میں ہر کام اور ہر کارروائی سفارش اور رشوت کے بغیر نہ ہو تی ہو وہ ملک مہذبیت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو نے کا سوچ بھی سکتاہے؟ایسے ذخائر کا کیا کرنا کہ گھر کا نلکہ لگوانے کے لیے کلرک سے لے کر ایم پی اے ،ایم این اے اور منسٹر کے دفتروں کے سینکڑوں چکر لگانے پڑیں۔یقین کیجئے وہ معیشت جس کے پیچھے اخلاقیات.کردار.اور عملی نمونہ نہ ہو اس کی کوئی طاقت نہیں ہو تی.آج کردار کی ادائیگی کا وقت ہے،اس مملکت خدا داد میں ہر وہ شخص جس کے پاس اس ملک کا شناختہ کارڈ ہو وہ جس محکمے ،جس دفترجائے رشوت اور سفارش کے بغیر اس کے جائز کام ہوتے جائیں گے۔’’یہ کردار ہی ہے جو حضرت امام حسین(رض) کا موقف ہوتا ہے جو تلوار کی دھار پر بھی نہیںجھکتا.یہ کردار ہی ہے جو حضرت بلال (رض) کا احد ہو تا ہے جیسے سینے پر رکھے پتھر بھی دیا نہیں سکتے.یہ منصور کاسچ ہو تا ہے جو تختہ دار پر بھی خاموش نہیں ہوتا.یہ صوفیا کی آنکھ ہو تا ہے جو بند ہونے کے بعد بھی کھلی رہتی ہیں.‘‘کنفیوشش نے کہا تھا’’قوموں کو فوجیں،مال و متاع اور کھیت کھلیان نہیں بچایا کرتے انہیں حکمرانوں،اور ملک میں بسنے والے افراد کا کردار بچایا کرتے ہیں۔اور جو قوم کردار میں مضبوط ہو دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی،کیونکہ وہ اصل مضبوطی.طاقت .ترقی اور خوشحالی کی جانب رواں دواں ہو تی ہے.کیونکہ ’’کردار‘‘ بغیر ملک ملک تو ہو سکتے ہیں،قومیں،قومیں بھی ہو سکتی ہیں،لیکن ہم ان قوموں اور ان ملکوں کومہذب قوم اور ملک نہیں کہہ سکتے۔

’’کردار.؟‘‘
سوچ کے پر/ڈاکٹر اشفاق رحمانی
I am Dr. Ashfaq Rehmani Write an Column it this Link with the reference of my brother who is the regular columnist in the same.So,net user and Read,s ,there are 1-Articles under attached folder for Editorial Page & your sweet personality.
i am regular columnist on AL-Qamar.org*www.alqamar.org & www.newsurdu.net
Please see attached & response through email also
Thanks & Regard
Dr. Rehmani
pasrurmedia@hotmail.com
0301-4690032