Band Gali Ke Bahar Ka Manzar


بند گلی کے باہر کا منظر
عاطف علیم

انقلاب کی کسی بھی کتابی تعریف کو فراموش کئے ایک مدت ہونے کو آئی ہے۔میں اگر اٹھارہ فروری کے انتخابات کے ماحصل کو انقلاب کا نام دوں تو بہت ممکن ہے کہ سیاسی لغت کے جانکار میری کم علمی پر خندہ فرمائیں ۔ان کا خندہ بجا لیکن مجھ ایسے کم علموں کی تشفی کیلئے اکیسویں صدی میں انقلاب کی کوئی قابل قبول تعریف تو بہر حال تلاش کرنا پڑے گی۔میری دانست میں ایک موزوں تعریف کچھ یوں ہو سکتی ہے کہ ’’ انقلاب سماج میں ہر سطح پر تبدیلی کا ایک ایسا عمل ہے جس کے نتیجے میں بند گلی میں سے راستے کھل جائیںاور آسمان تک بلند دیواروں کے زندانی بند گلی کی گھٹن سے رہائی پاکر کھلی فضا میں سانس لینے اور یہ جاننے کے قابل ہوسکیں کہ بند گلی کے باہر بھی کوئی زندگی ہے اور یہ کہ وہ خود کوبدلے ہوئے حالات کے مطابق اپنی قومی اور ذاتی زندگی کی تشکیل نو کرنے پر آمادہ کرسکیں۔
اکیسویں صدی کے بدلے ہوئے رنگ ڈھنگ کے تناظر میں کی گئی اس غیر مدرسانہ اور قدرے شاعرانہ تعریف پر اگر اتفاق کرلیا جائے تو شاید یہ کہا جاسکے کہ اٹھارہ فروری کے عہد ساز انتخابات کے نتیجے میں پاکستانی سماج اپنی نوعیت کے ایک منفرد انقلاب کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے۔شاید انقلاب کی مذکورہ بالا تعریف کو سامنے رکھتے ہوئے ان انتخابات کا درست تجزیہ کرنا بھی ممکن ہوسکے جو کہ فی الوقت ہمارے کرنے کیلئے سب سے اہم کام ہے۔دیکھا جائے تو ان انتخابات کے نتیجے میں صرف اقتدار کی ہیئت اور ترکیب ہی نہیں بدلی ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی اتنا سب کچھ بدل گیا ہے یابدلنے والا ہے کہ ہم اٹھارہ فروری سے پہلے اور اس کے بعد کے پاکستان کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ سکتے ہیں۔
انقلاب کو ایک ایسے ہمہ جہت عمل کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں سماجی رشتے تشکیل نو کے مراحل سے گذرتے ہیں۔اٹھارہ فروری کے بعد پاکستان کے بدلے ہوئے منظر نامے میں سب سے نمایاں بات یہی ہے کہ سماجی رشتوں نے نئی پہچان کے عمل سے گذرنا شروع کردیا ہے۔درست کہ رشتوں کی تبدیلی کا یہ عمل واضح شکل حاصل کرنے میں دیر لگائے گا۔یہ بھی درست کہ نیا سماج جس پرانے سماج کی جگہ لینے کو ہے وہ ابھی تک پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے ۔یقینا وہ اپنی بقا کیلئے مدافعت بھی کرے گا۔کہیں کہیں پر تو اسے شکست دینا کار دشوار بھی ثابت ہوگا لیکن وہی بات کہ’’ کس کے روکے رکا ہے سویرا‘‘۔سب سے زیادہ امید افز بات تو یہ ہے کہ نیا سماج جنم لے چکا ہے جو اپنی روح میں انسان دوست ہوگا اور جو خود کو وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔سماجی حرکیات اور جدلیات سے ناآشنا لوگ ایک تواتر کے ساتھ ٹکراؤ سے بچنے کی حال دہائی دے رہے ہیں۔وہ کم فہم نہیں جانتے کہ یہ ٹکراؤ ہی تو جس سے زندگی نمو پذیر ہوتی ہے ۔کوئی ناک منہ چڑھاتا ہے تو چڑھاتا رہے لیکن ایک زندہ سماج میں ٹکراؤ ہر ہر سطح پر جاری رہتا ہے ۔یہی وہ عمل ہے جو نئے رشتوں کی تشکیل کرتا ہے۔یہ رشتے اپنی ترقی پسند صورت میں ڈھلتے ہیں تو غریب کا چولہا جلتا ہے اوردر عدل پر اپنی جبین رگڑنے والوں کو انصاف کے درشن نصیب ہوتے ہیں۔انہی بدلے ہوئے سماجی رشتوں کے باعث ادارے اپنی اپنی حدود میںرہتے ہوئے عوامی خدمت کے قابل ہوتے ہیں اوراسی کی بدولت سرنگ کے دوسرے سرے پر ایک ٹمٹماتا ہوا دیا تا ابد روشن رہتا ہے۔
اٹھارہ فروری کا عوامی فیصلہ اس لئے بھی انقلابی نوعیت کا ٹھہرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک نیا پاکستان وجود میں آنے کو ہے جو وقت گذرنے کے ساتھ اندر سے اپنے آپ کو مضبوط کرتا چلا جائے گا۔شاید یہ کوئی مستقبل بعید کی بات نہ ہو کہ ہم پلٹ کر دیکھیں تو حیران ہوں کہ کیا ہم پر ایسا وقت بھی آیا تھا جب ہم اتنے مجبور اور بے بس ہوچکے تھے کہ جب بھی کسی طالع آزما کے جی میں آیا ، اس نے ہمیں اپنے گھوڑے کے سموں تلے روند ڈالا؟۔اور کیا ہم واقعی اس حد تک گئے گذرے ہوچکے تھے کہ ہم اپنی ریاستی خود مختاری اور معاشی آزادی کو بالا دست ریاستوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ان کے ’’چھوٹے‘‘ کا کردار ادا کرنے پر اکتفا کرچکے تھے؟۔
اس لمحے جب یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں رشتوں کی تبدیلی کا ایک طاقتور اور خوش کن منظر آنکھوں کے سامنے جھلملا رہا ہے۔نئے وزیر اعظم کو اعتماد کے ووٹ سے سرفراز کرنے کیلئے پاکستان کی نئی قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ہم نے ماضی میں بہت سی اصلی اور جعلی اسمبلیاں بھی دیکھی ہیں اور ان کی بے کسیاں بھی ملاحظہ کی ہیں۔ہمیں اپنی تاریخ میں کوئی ایسی پارلیمنٹ دکھائی نہیں دیتی جومکمل طور پر بااختیار اور بالا دست ہونے کا دعویٰ کرسکے۔پارلیمنٹ کیا ہے؟ ریاست میں عوام کی آواز کی بازگشت ۔جمہوریت کے تارو پود میں پارلیمنٹ کو ایک ایسا بیرو میٹر بھی قرار دیا جاسکتا ہے جس سے ریاستی امور میں عوام کی شرکت کے معیار کو جانچا جاسکے۔پارلیمنٹ اپنے فرائض کی انجام دہی میں جتنی آزاد اور با اختیار ہوگی ریاستی ایوانوں میں عوام کی آواز بھی اتنی گونجدار ہوگی۔ جمہوریت کی ارتفاعی صورت شاید یہی ہے کہ پارلیمنٹ میں میلوں دور کسی جھونپڑی ، کسی کچے کوٹھے میں سرسراتی گھٹی ہوئی چیخیں بھی پارلیمنٹ کے ایوانوں میں گونج بن کر ہل چل مچا سکیں۔یقینا ہم ابھی اس منزل سے کوسوں دور ہیں لیکن ہزاروں کوس کی مسافت طے کرنے کیلئے بھی پہلا قدم تو اٹھانا پڑتا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اس پارلیمنٹ نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی ملک کی تاریخ کے پہلے ایسے وزیر اعظم کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہیں اپوزیشن نے بھی اعتماد کے ووٹ سے سرفراز کیا ہے۔
موجودہ پارلیمنٹ کی حد تک تبدیلی کا عمل نہایت واضح ہے۔حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں اپنی دریافت نو کے جس عمل میں تھیں اس کا دائرہ پھیلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔سوچ اور حکمت عملیوں کے فرق سے قطع نظرموجودہ پارلیمنٹ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف نئی پہچان کے ساتھ سامنے آرہی ہیں۔ان کے درمیان رشتوں کی نوعیت بھی پہلے سے بدلی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔نئے وزیر اعظم پر پوری پارلیمنٹ کا متفق ہونا اس امر کی گواہی ہے کہ پارلیمنٹ اپنی بالادستی سے کم تر کسی بات پر اکتفا نہیں کرنے والی۔پارلیمنٹ کا یہ بدلا ہوا روپ نئے سماج کی تشکیل کی جانب ایک چھلانگ ہے۔یہ طے ہے کہ تبدیلی کا یہ عمل کسی ایک ادارے تک محدود نہیں رہے گا ۔ ریاست کے دیگر اداروں کو بھی نئے روپ کے ساتھ سامنے آنا پڑے گا۔یوں سماجی رشتوں کی تبدیلی کا یہ عمل ایک نئے پاکستان کا اعلامیہ بن کر سامنے آئے گا۔بہتر ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں ہر کوئی اپنے کردار کو پہچان لے۔جو کوئی بھی اس نئے پن کے ساتھ چلنے کے قابل نہیں رہا اس کیلئے یہی مشورہ ہے کہ دیر ہونے سے پہلے وہ سفید کاغذ پر چند الوداعی الفاظ تحریر کرے اور ٹیلیفون اٹھا کر پہلی انٹرنیشنل فلائٹ میں اپنی سیٹ ریزور کرالے ۔