سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دو درجن کے قریب سابق ججوں نے جِن میں اِن عدالتوں کے سابق چیف جسٹس صاحبان بھی شامل ہیں، ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ معزول کیے گئے ججوں کو بحال کرنے کے لیے سادہ اکثریت سے پارلیمنٹ کی ایک قرارداد ہی کافی رہے گی۔
اِن ججوں میں شامل لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ جسٹس خلیل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ آئین میں ایک نام نہادشق 270aaa کی شمولیت بے معنیٰ بات ہے۔
اُن کے بقول: ’یہاں تو نظریہٴضرورت کا بھی اطلاق نہیں ہوتا، حالانکہ اگر نظریہٴ ضرورت کا اطلاق ہو تب بھی ڈکٹیٹر کو اپنے اقدامات کی پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت سے توثیق کرانا پڑتی ہے۔‘
موجودہ صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے ریٹائرڈ جسٹس خلیل الرحمٰن نے کہا کہ ’یہ خدا کی طاقت ہے اُس سے بھی کہیں اوپر سے آتے ہیں کہ میں نے جو کہہ دیا ہے وہ آئین کا حصہ بھی بن گیا اور اُس کو کوئی نیچے اوپر نہیں کر سکتا۔‘
واضح رہے کہ پیر کے روز نو منتخب اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے اور اِس اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعتوں نے 30دن کے اندر معزول ججوں کو بحال کرنے کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔
اٹارنی جنرل سمیت حکومت کے حامی وکلا اگرچہ دو تہائی اکثریت سے ججوں کی بحالی کی بات کرتے ہیں لیکن عدالتی دنیا میں اُن کا ہم خیال ملنا مشکل ہو گیا ہے۔
دریں اثنا وکلا نے یہ بھی اعلان کر رکھا ہے کہ اسمبلی کے اجلاس کےساتھ ہی وہ 30 دن کی الٹی گنتی شروع کر دیں گے اور اتوار کو پاکستان بار کونسل نے اپنے اجلاس میں ہر جمعرات کو احتجاج کرنے کے سابقہ فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

Bookmark Site
Comments
CFVJkdjEVNDmMsioSr
BpE4KG fyooqdvkluef, [url=http://hfzrbhhixacy.com/]hfzrbhhixacy[/url], [link=http://qqvyqnytuout.com/]qqvyqnytuout[/link], http://warsxgxockzz.com/