احسانوں کا قرض<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
خیر سے گلگت بلتستان کے انتخاب باخوبی انجام پاگیے اور ھارنے والوں کو جتینے والوں سے اور جتنے والوں کو ھارنے والوں سے شکایت، یہ تو گیم کا حصہ ھے اور بڑے بڑے شھروں ایسا تو ھوتا ھی ھے۔ سب جتنے والوں کو مبارک باد قبول ھو۔ اس الیکشن نے متحدہ قومی موومنٹ کو بھی بضابطہ طور قومی دھارے میں شامل کرلیا اور اس کی ابتدہ بھی شاندارا رھی ایک امیدوار جو کہ تمام امیدواروں سے سبقت لے کر نو ھزار سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ھوا، امید ھے متحدہ قومی موومنٹ حسب روایات گلگت بلتستان کی عوام کی فلاح بھبود کے لیے اپنی پوری توانیاں صرف کردے گی اور کے ھوے وعدوں کی لاج رکھے گی جوکہ اسکا خاصہ ھے۔
وعدوں اور احسانوں کے پورہ کرنے سے متلق اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات بڑے واضع اور کڑے ھیں جس کی پوجھ اور حساب اللہ کے ھاں ھر انسان سے کیا جاے گا۔ ایسے ھی وعدوں اور احسانوں کی قرض دار پاکستان پیپلز پارٹی ھے جوکہ اس نے لیاری کی عوام سے بارھا کیے مگر وفا نہ کیے۔ لیاری کے عوام جوکہ دل و جان سے پیپلز پارٹی کے وفادار رھے ھیں بھٹو سے لے کر بے نظیر تک ھر ایک نے لیاری کو پیرس بنانے کے وعدے بعید کیے مگر لیاری پیرس تو دور، زندگی کی بنیادی ضرورت پورا کرنے کے قابل بھی نہ بناسکی۔ لیاری کے نوجوانوں میں وہ خاصیت قدرتی طور پر موجود ھے کہ فٹ بال اور باکسنگ کے شعبہ میں پاکستان کو اول مقام دے سکتے ھیں، مگر اج لیاری کو منشیات فروشوں، جرایم پیشہ افراد، اور گینگ وار کی محفوظ پناہ تصور کیا جاتا ھے۔ زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم۔ یہ بات پیپلز پارٹی کے ھر لیڈر کو معلوم ھہ کہ لیاری کی عوام نے اپنے سروں پر پارٹی کا انتخابی نشان تیر بناکر اپنے اپ مضکہ خیز بنانے سے لے کر اپنے سروں کو کٹانا پسند کرلیا مگر پارٹی سے اپنی وفاداری نہ بدلی جو کہ پیپلز پارٹی پر انکا قرض ھے۔ اور جو وعدے مرحوم بھٹو اور مرحومہ بینظیر نے انسے کیے ان کو پورہ کرنا اج کے پارٹی رھنماوں پر فرض ھے۔ اور غلطیاں اگر جلدی سدھار لی جاییں تو اچھا اور مقبول عمل ھے اور اسی میں ھماری بھلای پوشیدہ ھے۔ ورنہ اللہ بھت بڑا منصف اور جاننے والا ھے۔