گذشتہ شب ایک نجی ٹیلی وژن پر اسلام اباد، لاھور اور پشاور کی عوام کو سی این جی اشٹیشن پر قطار لگاے اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے دیکھایا گیا۔ جس پر موصوف اینکر لوگوں کی راے پوچھ رھا تھا کہ اپ کو لاین میں لگ کر کیسا لگ رھا ھے۔ کچھ لوگ واقعی بھرے بھیٹے تھے اور گورمنٹ کو اور خاص طور پر محترم نواز شریف کے خلاف عوام میں خاصہ غصہ پاگیا۔ جو کہ حددرجہ درست بھی ھے۔ نواز شریف جوکہ پنجاب کی سیاست میں ایک نمایاں مقام رکھتے ھیں اور ظاھر ھے عوام کی امیدیں بھی ان سے زیادہ ھیں۔ پر بدقسمتی سے نواز لیگ جس کو ایک مثبت اور حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاھیے تھا۔ اس کے برعکس وہ ان نان ایشو کی طرف زیادہ جھکی نظر اتی ھے جس کا عوام کو کوی فایدہ نھیں۔ اج عوام کو کسی ترمیم کی واپسی یا مشرف کی گرفتاری سے سروکار نھیں۔ ان کو تو صرف ان کے بنیادی مسایل کا حل چاھیے۔ اج عوام زندگی کی بنیادی ضروتوں کو ترس رھی ھے۔ ان کی داد رسی ھونی چاھیے۔ اج ھر محب وطن سیاسی جماتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ھوکر عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا چاھیے۔ اگر وہ ایسا کرگیے تو تیسری دفعہ تو دور، عوام انکو اپنا تاحیات وزیر اعظم بناسکتی ھے۔ حکومت میں شامل جماعتیں اور باھر بھیٹی جماتوں کا اولین فرض ھے کہ عوام کے مسایل حل کرنے کے لیے اپنے تمام وسایل اور توانیاں صرف کریں ناکہ نان ایشو مسایل کی طرف اپنی نظرکرم کریں ۔ اج پاکستان کو ایک واضع کاونٹر پالیسی بنانے کی ضرورت ھے دھشت گردوں کے خلاف۔ جو کہ عوام کو ھی نقصان پحنچارھے ھیں کیونکہ سیاست دان تو ان کی پحنچ سے محفظوظ ھیں ۔ خود شریف خاندان کی سیکورٹی کے لیے پنجاب ایلیٹ فورس کے سب سے زیادہ جوان اور گاڑیاں ھر دم چوکنہ رھتی ھیں۔ رھے گیے بے چارے عوام جو سڑکوں، بازاروں، مسجدوں میں بابا ادم کے زمانے کی بنای گی بندوق اٹھاے پولیس کی حفاظت میں ھوتے ھیں ۔ جھاں انکو کو خون خوار، معصوم عوام کے خون کے پیاسے درندوں کا سامنا ھے جن کو رحم چھوکر بھی نھیں گذرا۔ وہ بس خون بھانا جانتے ھیں۔ اور وہ ان کو پاکستان کی عوام کی صورت میں مل جاتا ھے۔ باقی رھے انکے لیڈران جن کو وہ بڑی اس اور امید سے چنتے ھیں کہ کاش اب یہ کچھ کرجاییں گے۔ پر وہ تو اپنے اپنے حفاظتی حصار میں جابھیٹے ھیں۔ اور رھے گیے عوام سڑکوں پر بموں کی نظر ھونے یا کبھی شکر، اٹے، گیس کی قطاروں میں۔ کیا یہ ھی پاکستان قاید اعظم نے سوچا ھوگا۔ ایک سوال ھے۔ جس کا کوی جواب بھی نھیں۔ اب باتوں کی نھیں عملی اقدامات کی ضرورت ھے۔<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />