چاند کا ھی تکڑا

siaksa's picture

کیا کریں ھم جب ھم کو وطن عزیز سے خبریں ھی کچھ ایسی ملتی ھیں جو ھم پاکستانیوں کو دیار غیر میں تڑپادیتی ھیں۔ ایک خبر تھی کہ بھالپور میں ایک پل سیتالیس (۴۷) سال کے بعد تکمیل پاگیا۔ ویسے تو یہ سب ھی جانتے ھیں کہ پاکستان کا ۹۸ طبقہ ھمیشہ سے دبتا چلا ایا ھے اور نہ جانے کب تک ایسا ھوتا رھے گا۔ اس کی خبر کی صرف اللہ ھی کو ھے ۔ مگر حیرت اور شرمندگی جب ھوتی ھے۔ جب ھمارے سایستدان سانپ نکل جانے کے بعد لکیر کو پیٹتے ھیں جیسا کہ  سابق وزیر محمد علی درانی جب  خود حکومت میں رھے تو اپنے دور میں تو انکھیں اور کان بند رکھے اور جب حکومت چلی گی تو ان کو بھالپور کو ایک الگ صوبہ بنانے کا خیال ستانے لگا۔ ھمارے ان وزیر کو یہ نھیں پتا تھا ان کے دور میں بھی سراییکی صوبہ اتنا ھی ضروری تھا جتنا اج ضروری ھے۔ جنوبی پنجاب میں تو ناانصافی میں ھر دور میں ھوتی رھی ھے۔ اج وھاں پانی ناپید ھے۔ دریا تسلج سوکھ گیا ھے۔ اس کا ادراک کسی نے حکمرانی کے مزے لوٹتے ھوے نہ کیا۔ اج سب امریکیہ کی ترقی اور دنیا میں علم برداری کے معترف ھیں کیا کبھی یہ سوچا ھے کہ اتنے زیادہ صوبوں کی تعداد کے باوجود یہ مللک کس طرح ترقی کررھا ھے۔ کیونکہ اس نے اپنے صوبوں کو خودمختاری دی ھے۔ اور سب صوبے اپنی ترقی اور تعمیر کے لیے یک جوی سے کام کرتے ھیں ۔ یہ ھر کوی جانتا ھے دکھ اور مسایل باٹنے سے کم ھوتے ھیں۔ اج ھمارے مللک پاکستان میں ضرورت اس پات کی ھے کہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا جاے۔ جھاں ھر صوبہ خودمختار ھو اپنے معاملات چلانے میں۔ عقل مند ھوتی ھیں وہ قومیں جو مل بھیٹکر کام کرتی ھیں۔ پنجاب اپنی ابادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ اور ایک وزیر اعلی جو صوبہ کا متنظم ھوتا ھے اپنی پوری توانیاں بھی صرف کردے پھر بھی وہ پورے سیٹ اپ پر نظر نھیں رکھ سکتا ۔ اگر ذمہ داریاں تقسیم کردی جاییں مزید صوبے بنا کر کوی شک و شبہ کی گنجایش نھیں رھتی کہ مسایل کا ادراک نہ ھو۔ اور اس سے نیے دارالاخلافہ بنے گیں اور جو پسماندہ علاقے ھیں وہ ترقی کے پھیے تلے خوبی پھلے پھولیں گے۔ اور پاکستان مظبوط سے مظبوط تر ھی ھوگا۔ ورنہ اج کے پاکستان پر تو یہ الفاظ ھی فٹ اتے ھیں۔ کہ (میرا پاکستان تو بھی چاند کا ھی تکڑا لگتا ھے۔ کیکونکہ چاند پر بھی نہ پانی ھے، نہ بجلی ھے، نہ اٹا ھے)

Share this
No votes yet

Contact Author

Give feedback to author about this article.
CAPTCHA
This question is for testing whether you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.