انصاف کے تقاضے

siaksa's picture

سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے پر انکھیں اور کان بندھ رکھکر ملک اور قوم کے دشمنوں نے سمجھ لیا تھا کہ ان کی لوٹ مار کا کوی حساب کتاب نھیں ھوگا اور پاکستان کی عدالت کی کوی وقعت نھیں اور یہ سب وقتییہ شور شرابا ھے اور پھر خاموشی ھوجای گی۔ مگر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے نے پھر ان ملک اور قوم کی دولت کو اپنی جاگیر سمجھ کر ھڑپ کرنے جانے والوں پھر ایینہ دیکھا دیا ھے اور قوم کو ایک بار پھر باور کروایا ھے فلپاین اور سومالیہ کی مثال دے کر کہ کس طرح باعزت قومیں اپنے حق کو واپس لہتی ھیں اور متحدہ قومی موومنٹ کے قاید الطاف حیسن نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سرھاتے ھوے سچ کھا کہ ملک کی دولت کا بےجا اور ناجایز استعمال کسی بھی ادارے یا شخص نے کسی بھی شکل میں کیا ھو اس کا احتساب ملک کے وسیع تر مفاد میں ھونا چاھیے۔ لیکن انصاف کا ترازو صرف چھوٹوں صوبوں کے افراد تک محدود نھیں رھینا چاھیے کیکونکہ اس کا اثر منفی پڑھے گا اور چھوٹے صوبوں میں مزید احساس محرومی جنم لے گی، ملک کی دولت جو کہ صرف اور صرف اس کی عوام کا حق تھی اس کو حاصل کرنے کے لیے بلاتفریق ان چوروں کا محاسبہ ھونا چاھیے اور ان شخصیات پر بھی خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ھے جو کچھ دھاییوں پھلے لاکھوں اور کڑوڑوں کے مالک تھے اور اج اربوں اور کھربوں کے مالک بن بھیٹے ھیں ان سب معاملات کی تحیقات ھونی چاھیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ھوسکیں اور پاکستان عوام کو ان کا چھینا ھوا حق مل سکے اور ان کی حالت بیھتر ھوسکے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اس کی عوام کا امیج بدل سکے۔ تاکہ عام اور مڈل کلاس پاکستانی کی آبتر حالت کا کچھ تو مداوا ھو جو ان کے شعور میں اضافہ کرے گا اور جب ھی  وہ اپنی صفوں میں سے قیادت نکال کر ملک کو بار بار کنگال کردینے والے جاگیر داروں، سرمایہ داروں سے نجات حاصل کرسکیں اور پاکستان کو ایک حقیقی خودمختار، غیرت مند اور بھادر قوم کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھارسکیں گیں۔