اگر انسان ثابت قدمی سے محنت کرے تو کوی شک و شبہ کی گنجایش نھں رھتی کہ اللہ اس کی محنت کو ناکارہ کردے ایسی ھی مثال کراچٰی کے چھوٹے اور غریب علاقے کورنگی سے تعلق رکھنے والی نسیم حمید نے قایم کی ھے، اور پاکستانی قوم کے سر فخر سے بلند کردیے۔ یہ بات کسی سے ڈکھی چھپی نھیں کہ انسان کے حالات جیسے بھی ھوں لیکن اگر وہ محنت و لگن اور ثابت قدمی سے کام کرے تو کامیابی ایسے ھی لوگوں کے نصیب میں ھوتی ھے اور ایسے ھی لوگ قوموں کی تقدیر بھی بدلنے میں اھم کردار ادا کرتے ھیں، کیا خوب کھتے ھیں کہ کنول کا پھول بھی کیچڑ میں پھلتا پھولتا ھے اور ھیرے بھی کویلے کی کھان میں ھی پاے جاتے ھیں، میرے رب نے پاکستان میں ایک سے ایک قابل اور محنتی افراد پیدا کیے ھیں جن لوگوں نے اپنی محنت اور لگن سے یہ ثابت بھی کیا کہ غریب اور متوسط طبقہ ھی پاکستان کی شان اور مستقبل ھے اگر اس کو اگے بڑھنے سے روکا نہ جاے تو اللہ سبحان تعالی کی رحمت سے پاکستان کی قسمت بدل جاے ، ھر اندھیری رات کے صبح بھی بڑی روشن ھوتی اور اللہ کی شان بھی بڑی ھے کہ وہ پاکستان کے نامصایب حالات میں بھی پاکستان کے مظلوم عوام کو امید اور اس دلاتا ھے ھم میں سے کچھ لوگوں کی محنت اور لگن کو کامیابی کی شگل دے کر کہ ابھی بھی امید نہ ھارو اور اپنے ملک میں ان لوگوں سے سبق لو کہ نا مصایب حالات کے باوجود ھمت نہ ھاری اور اج ان کی محنت کو ھر محب وطن سلام کررھا ھے، اور ایسے ھی باھمت لوگوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے قاید الطاف حسین بھی ھیں جنھوں نے اپنی تعلم کو پورہ کرنے کے لیے لوگوں کے گھر گھر جاکے ٹیوشن پڑھای، رمضان کے مھینے میں عید کارڈ کے اسٹال لگاے اور موزے بنیان تک فروخت کیے۔ اپنی غریبی پر شرمندہ نہ ھوے اور اسی سوچ اور فلسفہ پر عمل پیرہ ایک اور محنتی قابل سخص مصطفی کمال بھی ھے جس نے بے مثال محنت سے کراچی کی شکل بدل دی اور محض چار سال کے عرصے میں 2 ھزار سے زاید منصبوں کو پایہ تکلمیل تک پھنچایا اور پاکستان کی تاریخ میں پھلی بار ایسا ھوا ھے کہ کراچی شھر کے پاس 20 سال کا ویزن موجود ھے جو کہ ھم نے ترقی یافتہ ملکوں میں اب تک دیکیھا ھے۔ شاباش ھے ملک کے نوجوانوں پر اگر انکوں کام کرنے کے موقعے فراھم کیے جاییں تو وطن عزیز کی قسمت کو بدلنے سے کوی دشمن نھیں روک سکتا۔ اج پھر دوبارہ نسیم حمید بھی ان تمام غریب اور متوسط طبقے کو دعوت فکر دے رھی ھے کہ محنت سے دل نہ چراو اور لگن جاری رکھو کیونکہ پاکستان تم سے ھی ھے اور تم کو ھی اس کو دنیا میں اہک بلند مرتبے پر لے کر جانا ھے، اور انے والا وقت ھی پاکستان کے غریب اور متوسط عوام کا ھے، وہ وقت اب دور نھیں جب پاکستان پر اس کے اصل حقداروں کی حکومت ھوگی اور جب ھی ھمارے قاید محمد علی جناح کا پاکستان سامنے اے گا جس کو نہ جانے ساٹھ سالوں کس کس طرح لوٹا اور نوچا گیا ھے۔ تف افسوس کا مقام ھے ملک کی جڑوں سے چبھٹے ھوے دشمنوں نے پاکستان کو منی لانڈرنگ میں بلیک لسٹ ملکوں کی فھرست میں کھڑا کردیا۔ اخر یہ غیر ملکی قرضے، امداد ، ھر سال بنکوں کے زریعے جمع کی ھوی زکات، قرض اتاروں ملک سمنھاروں کی مد میں جمع کیا گیا مال، اخر انکوں کس کی نظر لگ جاتی ھے جو صرف اخباروں ھیڈ لاین میں لگ کر ایسے اڑن چھو ھوجاتے اور صرف بچ جاتا ھے سود جو پاکستان کی عوام کو اتارنا پڑتا ھے اور اج تک اتار ھی رھے ھیں۔<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
نہ سوچ ابھی بھی کہ کسی اور نہ اکے کچھ کرنا ھے۔
یہ دیش ھے ھمارہ ھم ھی نے اس میں ھم نے جینا ھے اور مرنا ھے