
مبارک باد کی حقدار ھے متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت جن کی پرخلصوص کوششوں کی وجہ سے سندھ کا بلدیاتی تنازہ جمھوری طریقے سے پایہ تکمیل پاگیا اور متفیقہ طور پر ایڈمینسڑ کی تعناتی منظور ھوگی جو الیکشن کے قیام کے بعد عوام کے منتخب لوگوں کو اقتدار منتقل کردے گی۔ مبارک بعد کے حقدار مصطفی کمال بھی ھیں جنھوں نے نہ صرف اپنی محنت سے کراچی کے لوگوں اور پاکستان کے دیگر عوام کے دل تو جیتے ھی ھیں بلکہ بین الاقومی سطح پر بھی پاکستان کے نام کو بلند کیا۔ اور اپنے قاید الطاف حسین کے اس فکر فلسفہ کو سچ کردیھکیا کہ تکلیفوں کو وہ ھی سمجتا ھے جو اس سے گذرتا ھے اور وہ ھی اس کو حل کرنے کی صحیح اھلیت بھی رکھتا ھے۔ سامنے کی بات ھے جس کو سمجنا اج ھر پاکستانی پر فرض ھے اور پاکستان سے محبت کا تقاضہ بھی ھے، ھمارے پاکستان کی ترقی اور بھبود کا پل صراط جس کو پار کرنے کے لیے ساٹھ سالوں سے دو فیصد مراعات یافتہ گھن چکر بنا ھوا تھا وہ پل صراط پاکستان کی غریب اور متوسط قیادت نے چار سالوں ایسا پار کیا کہ دنیا کو حیرت زدہ کردیا اور سوچنے پر مجبور کردیا کہ یہ جناتی صفت کے حامل افراد کس بوتل میں قید تھے۔ جو نہ دن کا خیال کرتے ھیں نہ رات کا بس اپنی ذمہ داری انجام دینے کی فکر میں رھتے ھیں۔ شاباش ھے ان تمام حق پرست کونسلرز، ضلعی ناظم حضرات اور تمام مشنری جس جس نے محنت اور ذمہ داری کے اس بے مثال سفر میں ناظم کراچی مصطفی کمال کا ساتھ دیا اور کامیابی حاصل کی۔ حکومتی اعلامیہ کے مطابق چار ماہ کے باد دوبارہ بلدیاتی ایکشن کا بگل بجنے والا ھے جس میں وہ ھی کامیابی حاصل کرے گا جو عوام کی فلاح اور بھبود کے کاموں کو ھی اپنی پھلی اور اخری ترجیح سمجتا ھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کے ضلعی ادارے نادرہ اور الیکشن کمیشن پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری عاید ھوتی ھے کہ وٹر لسٹوں کو ازسرنو ترتیب دیں وٹروں کے اصل رھایشی پتوں کے حساب سے تاکہ جس ووٹ کا حق جس حلقے یا تحصیل کا ھو اسی جگہ پر ھی کاسٹ ھو۔ کیکونکہ ھر ووٹ اپنے حلقے کی امانت ھے اسکو اسی جگہ پر کاسٹ ھونا چاھیے اس سے بوگس ووٹوں کی روک تھام ھوسکتی ھے۔ ورنہ ایک ووٹ دوجگہ استمعال ھوسکتا ھے۔ ایک اصل جھاں وہ اپنے روزگار کے لیے عارضی طور پر مقیم ھے اور دوسرا وہ بوگس ووٹ جھاں کا وہ اصل رھایشی ھے وھاں کاسٹ ھوجاتا ھے۔ جو کہ سراسر غلط اور جمھوری اقدار کے خلاف ھے۔ جس کی روک تھام کے لیے کوی قانون بننا اج کی اشد ضرورت ھے۔ جس پر ھماری تمام سیاسی جماعتوں ایک جمع ھوکر قانون سازی کرنی ھوگی تاکہ اس قسم کی دھاندلی کی روک تھام ھو اور الیکشن شفاف ھوں جس پر تمام لوگ متفق ھوں۔