انسان روز اول سے وقت گذاری کے لیے اور ذھنی اسودگی پانے کے لیے مختلف قسم کے مشغلے اپناتا رھا ھے چاھیے وہ کھلیوں کی شکل میں ھوں یا کبوتر بازی، تیتر، مرغوں کی لڑاییاں، غرض نا جانے اور کون کون سے مشغلے اسکی ذھنی اسودگی کا سبب بنتے رھے ھیں اور جب تک دنیا قایم دایم ھے نت نیے طریقے ایجاد ھوتے رھے گے۔ ایسے ھی مشغلوں میں ایک مشغلہ پتنگ بازی بھی ھے جس میں لوگ بڑی ، چھوٹی اور مختلف اقسام کی اشکال کی پتنگ اسمان میں اڑاتے ھیں جس سے اسمان پر ایک خبصورت سما سا بن جاتا ھے۔ جو دیکھنے میں بڑا دل کو لبھانے والا اور انوکھا ھوتا۔ بظاھر پتنگ بازی ایک بے زر سا مشغلہ لگتا ھے لیکن اج کل کچھ لوگوں کی ناعاقبت اندیشی کے نتیجے میں لوگوں کی جان لینے اور دوسرے نقصانات کا سبب بھی بن رھا ھے۔ اور ھمارے ملک میں مس منجمنٹ کا یہ عالم ھے کہ مرض کے اصل محرکات کو جڑ سے ختم کرنے پر توجواہ نھیں دی جاتی اور وقتیہ اقدام کرکے ، پکڑ دھکڑ یا لوگوں ناجایز ھراساں کیا جاتا ھے اور ھر سال کا وتریہ بن کے رھے گیا ھے۔ اج پھر بسنت کے موقع پر وہ ھی ڈرامہ رچایہ جارھا ھے۔ اور فیسٹول کے ختم ھونے کے بعد پھر زندگی اپنے نارمل انجام پر اجاے گی۔ یعنی اگلے سال تک کی چھٹی۔ حالانکہ سب جانتے ھیں کہ پتنگ سازی سے لاکھوں کا روزگار منسلک ھے اور لاکھوں خاندان اس سے اپنی گذر بسر کررھے اور ظاھر حکومت کو ٹیکس بھی دیتے ھی ھونگے۔ تو کیا وجہ نھیں کہ ھماری قومی اور صوبای اسمبلیاں جن کا کام ھی قانون سازی کرنا ھوتا ھے۔ وہ کیوں نھیں اس کھیل کے قواید ظوابط متعین کرتے اور اس کھیل پر متفقہ قانون سازی کی اشد ضرورت ھے تاکہ اس خبصورت کھیل اور مشغلے کے جو نقصنات ھیں ان سے بچا جاسکے۔ پنجاب حکومت کو چاھیے کہ وہ پھیل کرکے اس پر قانون سازی کریں کیونکہ وقتیہ اقدام سے کچھ نھیں ھوتا ھر کام کے لیے ایک جامعی پالیسی کی ضرورت ھوتی ھے تاکہ ان لوگوں کا بھی معاشی نقصان نہ ھو جو اس صنعت سے وابستہ ھیں اور لوگوں کی جان کو بھی محفظوظ کیا جاسکے۔ یہ ھی اکیسوی کا تقاضہ ھے <?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />