ینگ گلوبل لیڈر

siaksa's picture

جنرل (ر) پرویز مشرف اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری صاحب دو محتلف مزاج اور نظریات کی شحصیت ھیں، مگر دونوں مصطفی کمال کے کام کی کارکردگی اور کارناموں کے گرویدہ ھیں۔ چیف جسٹس کے حسن ظن کی داد دینا پڑے گی کہ گذزشتہ دنوں بھری سپریم کورٹ میں انھوں نے کراچی کے بے حد لایق فرزند کے کارناموں کی تعریف کرنے میں ذرا بھی بخل سے کام نھیں لیا۔ ورنہ دنیا جانتی ھے چیف صاحب کبھی کسی سرکاری اور خکومتی اھلکار کی تعریف اور توصیف نھیں کی۔ اور کوی کیوں نہ کرے اج مصطفی کمال نے   دنیا میں پاکستان کا نام بلند کردیا۔ ینگ گلوبل لیڈر کا خطاب پاکستان کی 63 سالہ تاریخ میں پھلی بار مصطفی کمال   کو ملا جس نے عوامی خدمت میں اعلی کارکردگی اور قائدانہ صلاحیتوں کا بے مثال مظاھرہ کیا۔ وہ واقعی سرھانے کے لایق بھی ھے۔ ملک کا ھر شھری اس بات کو اچھی طرح اج جان گیا ھے کہ پاکستان کی فلاح اور بھبود کے اصل مالک اور نگھبان صرف غریب اور متوسط ظبقہ ھی ھے اگر انکے ھاتھوں میں ملک کی بھاگ ڈور دی جاے تو اج صرف ینگ گلوبل لیڈر میں غریب اور متوسط طبقے سے تالق رکھنے والے پاکستانی کا نام ایا ھے، کل پاکستان ھی دنیا کو لیڈ کرے گا۔ اب حکومت پاکستان کی باری ھے، صدر پاکستان اور وزیر پاکستان سے گذارش ھے کہ پاکستان کے اس لایق فرزند کو کسی سیاسی عصبیت کے بغیر  پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازیں۔ ویسے وہ کسی سرکاری اعزاز کا محتاج تو نھیں مگر اس سے خود اعزاز کی توقیر میں ھی اضافہ ھوگا۔ اگر حکومت کراچی کو چار برسوں کی قلہل مدت میں مغرب اور یورپ کے کسی ملک کے شھر میں تبدیل کرنے والے فن کار، معمار اور اسٹار مصطفی کمال کو ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازے گی۔  ویسے تو  گذزشتہ دنوں سابق ناظم کراچی جناب نعمت اللہ صاحب کی بھی پریس کانفرس نظروں سے گذری جس میں انھوں نے مصطفی کمال کی سٹی گورمنٹ پر تنقید کی۔ انکی تنقید سر انکھوں پر کیکونکہ یہ بھی جمھوریت کا حسن ھے۔ اور نعمت اللہ صاحب ایک قابل احترام شخصیت کے مالک بھی ھیں۔ اور رھی مصطفی کمال کی بات وہ شخص بھی ایک لایق فرزند ھے اور بزرگوں کی عزت کرنا نہ صرف اس پر ایک مسلمان اور پاکستانی گھرانے سے تالق ھونے  کی وجہ پر ان پر فرض ھے بلکہ انکی نتظیم متحدہ قومی موومنٹ کا بھی اولین فلسفہ ھے۔ جھاں مصطفی کمال کو دنیا میں اج ایک بلند مقام ملا ھے۔ جھاں ملکی اور بین الااقوامی سطح پر انکی پزرای ھوری ھے۔ ایسے میں تنقید بھی ایک صحت مند اقدام ھے جو انے والے الیکشن میں مزید انکی صلاحتوں کو جلا بخشے گا۔<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
 

Share this
No votes yet

Contact Author

Give feedback to author about this article.
CAPTCHA
This question is for testing whether you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.