مزدورں کے عالمی دن سے دو دن پھلے اپ بھی لکھیے میں جو تصویر شایع ھوی وہ موقع سے بڑی مناسبت رکھتی ھے جس پر اردو نیوز کے ذمہ درران مبارک باد کے حقدار ھیں۔ یہ تصویر انت گنت سوالوں کے جواب خود دے رھی ھے۔ <?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
۱۔ (الکاسب حبیب اللہ) محنت کرنے والا اللہ کا دوست ھے یہ ھمارے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ کا قول مبارک ھے جس کو یہ انسان پورا کرھا ھے اور سخت موسم کی پرواہ کیے بغیر محنت مزدوری کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پال رھا ھے۔ عظیم ھوتے وہ لوگ جو محنت سے اپنا جی نھیں چراتے اور اللہ کے دوست ھونے کے اھل قرار پاتے ھیں۔
۲۔ گدھا جو اس انسان کی محنت اور کاوشوں میں برابر کا شریک ھے اور اپنے مالک کی فرمابرداری میں اس کا برابر ساتھ دے رھا۔ گدھا جو کہ ھمارے معاشرہ میں اچھا نھیں سمجا جاتا اس کے برعکس مفربی معاشرہ میں اس کو وفادار اور محنت کش جانور سمجھا جاتا ھے جس نے انسانی زندگی نیشب و فراز اور ترقی میں اپنے مالک کا برابر ساتھ دیا ھے اور اس کی اپنی مالک سے وفاداری ھم انسانوں کو بھی اپنے مالک حقیقی جس نے تمام کاینات کو بنایا جس کی فرمابرداری ھم سب انسانوں پر واجب ھے اس کا سبق دیتی ھے۔
۳۔ ایک طرف تو یہ محنت کش اپنی جان فشانی سے اللہ کے دوست ھونے کا حق ادا کرھا ھے دوسری طرف ھمارے معاشرے کی ناھمواریوں پر بھت بڑا سوال بن کہ کھڑا ھے کہ ھر روز ٹی وی پر اقوام متحدہ کے تحت ھم کوی نہ کوی مناتے ھیں۔ کبھی فادر ڈے، مادر ڈے، زمین سے محبت کا دن۔ مزدورں کا عالمی دن۔ کیا یہ سب ایونٹ وقت گزاری کے لیے ھوتے ھیں یا ان دنوں کو منانے کے پیچھے جو فلسفہ پوشیدہ ھے اس پر اج تک ھم نے غور کیا ھے؟ مزدورں ، کسانوں اور محنت کشوں کے جو جایز حق اسلام اور اج کا مھذب معاشرہ ھم کو سبق دیتا ھے اس کے مطابق عمل ھوتا ھے؟ کیا ان مزدورں کو انکا معاوضہ پسینہ خشک ھونے سے پھلے ان کو ادا کیا جاتا ھے؟ کیا انکوں اپنی زندگی عزت سے گذرانے کا مقام فراھم کیا جاتا؟ کیا انکی عزت نفس کو مجروع ھونے بچایا جاتا ھے؟ اگر ھم اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو ھم بھی افسوس کریں گے کہ بل واسطہ نہ سھی بلا واسطہ تو ھم اس جرم میں شریک عمل ھیں جو ان محنت مزدورں کے ساتھ روا رکھا جاتا ھے کیونکہ جرایم پر سے اپنی انکھوں کو بند کرلینا بھی تو ظالم کے جرم میں شریک ھونے کے برابر ھوتا ھے۔
ان تمام باتوں کے باوجود اج بھی سرزمین پاکستان میں کچھ ھستیاں ایسی بھی ھیں ھمارے درمیان جو غریبوں کی داد رسی کرنے اور انکی حت امکان مدد کرنے پر یقین کامل رکھتی ھیں۔ ایسی ھی خاتون جو کراچی کی باسی پروین سعید ھیں جھنوں نے اپنی مدد اپ کے تحت مخیر حضرات کی مدد سے
خالی پیٹ جو کہ ھر براییوں اور گنھاھوں کو جنم دینے کا موجب بننتا ھے۔ اسکو غریب کی عزت نفس کو مجروع کیے بغیر بھرنے کا اس ھوش ربا مھنگای کے دور میں بیڑا اٹھایا ھوا ھے۔ اج کے دور میں ۳ روپے میں ایک غریب ادمی کو کھانا کھلانا ایک ناقابل عمل کارنامہ ھی ھوسکتا ھے۔ جس جو بڑی کامیابی چلایا جارھا ھے ایک کھانا گھر سے شروع ھونے والا کارواں اج کراچی شھر میں تین غریب ابادیوں تک پھنچ گیا ھے اور اج بھی انکی ھمت جوان ھے اسکو مزید علاقوں میں کھولنے کے لیے۔ اللہ ان کی اس نیک کام میں مدد دے اور پاکستان کے اور بھی لوگوں کو توفیق عطا کرے کہ پاکستان کے ھر شھر میں اس قسم کے کھانا گھر جگہ جگہ ھوں تاکہ خالی پیٹ کی اذیت ناک کیفیت سے کوی دوچار نہ ھو۔
اچھے کاموں کی تشھیر کرنا کرنا اس لیے بھی ضروری ھوتا ھے کیکونکہ چراغ سے چراغ جلتا ھے۔ اج پاکستان کو ھزراوں پروین سعید جیسے لوگوں کی بے حد ضرورت ھے، تاکہ دھنک میں شایع تصویر کا محنت کش انسان اپنی کڑی محنت کو انجام دینے بعد عزت کے ساتھ اپنا پیٹ بھر سکے جو کہ اسکی دسترس میں ھو۔