<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
رب عالمین کا شکر بجا لاچاھیے کہ پھیٹ سمندری طوفان اس کی رحمت سے ٹل گیا اور پاکستان کی عوام پر اللہ تعالی کا احسان عظیم ھے۔ اللہ مظلوم انسانوں پر رحم کرتا ھے یہ اسکی سنت ھے ﴿الحمد اللہ﴾ لیکن ظلم تو انسان، انسان پر ھی کرتا ایا ھے ازل سے۔ سمندری طوفان تو اللہ کی رحمت سے ٹل گیا اور وہ نقصان نھیں ھوا جسکی توقع کی جارھی تھی لیکن عجب تماشہ تو یہ ھوا جب پورہ سندھ اور بلوچستان ڈرا اور سھما ھوا تھا طوفان کے ڈر سے ایسے میں اسلام باد میں بجٹ کا طوفان جاری و ساری تھا۔ اللہ تعالی نے تو اپنی مخلوق پر رحم کیا۔ پر ظالم اور جابر حکمران عوام پر رحم کھانے کے متحمل نہ ھوسکے۔ کوی بھی حکومت ھو اسکا بجٹ عوام دوست ھی ھوتا ھے۔ اور اپوزیشن کے لیے عوام پر تلوار اور یہ ھی تلوار عوام دوست بھی بن جاتی ھے جب میوزیکل چیر کے گیم میں اپوزیشن کو حکمرانی کا موقع مل جاتا ھے۔ اس سے یہ بات ھی ثابت ھوتی ھے کہ حکمران ھوں یا اپوزیشن دونوں ایک ھی تھالی کے چٹے بٹے ھیں۔ کیونکہ پاکستان میں سیاسی سیٹ اپ ھمیشہ سے ان لوگوں کے ھاتھوں میں رھا ھے جو منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ھوتے ھیں۔ اور ان کی سیاست میں امد محض خاندانی میراث کی اجارہ داری، شھرت اور وقت گذاری کی خا طر ھوتی ھے۔ ان کو حکومتی عھدوں کی مراعات کی ضرورت ھر گز نھیں ھونی چاھیے کیونکہ وہ معاشی طور پر خود اتنے مضبطوط ھوتے ھیں۔ اخر وہ کیوں ان مراعات کو حاصل کرتے ھیں۔ اربوں روپے کی یہ مراعات جو یہ لینڈ لارڈز عوام کی خون پیسنے کی کمای سے حاصل کرتے ھیں اگر ترقیاتی کاموں میں لگادیے جاییں تو کیا پاکستانی عوام کے دکھوں میں کمی نا ھوگی۔ پاکستان میں یہ قانوں لازمی بننا چاھیے جو اسمبلی کا ممبر اور وزیر معاشی طور پر مضبوط ھو اس کو کوی مراعات نھیں دی جاے گی۔ کیونکہ انکا اسمبلی میں انے کا مقصد غریب عوام کی خدمت ھے جس کا یہ دعوا بھی کرتے ھیں تو خدمت بے لوث ھی اچھی لگتی ھے۔اگر یہ قانون بن گیا تو پھر دیکھنا کہ یہ برساتی سیاستدان ڈوھنڈنے سے بھی نھیں ملیں گے۔ حلوے کھانے کا در جو بند ھوجاے گا۔ پاکستان کی عوام کا پیسہ جو ٹیکسوں کی شکل میں ان سے لیا جاتا ھے اس کو جس بے دردی سے لوٹایا جاتا ھے پاکستان کے سوا کسی ملک میں اسکی مثال نھیں ملتی۔جو سھولت عوام کا حق ھے اس کو لوٹ مار سے ھڑپ کیا جاتا ھے۔ ایسے ایسے سفید ھاتھی جیسے حکومتی اداروں کو ھر سال بجٹ میں سبٹڈی دی جاتی ھے جو پاکستان کی عوام پر بوجھ بنے ھوے ھیں۔ پاکستان اسٹیل مل جو ایک ارب ماھانہ کے گھاٹے میں چل میں چل رھی ھے۔ پاکستان ریلوے جس کا کوی والی وارث نھیں ھمیشہ نقصان کا رونا، پاکستان ایر لاینز کو کس طرح لوٹا جارھا ھے۔ نقصان کا باعث ھی ھے۔ پاکستان الیکڑک سپلای اس کے کیا کھنے بے مثال ھے نقصان میں۔ کیا ھمیشہ پاکستان کی عوام ان نقصان زدہ اداروں کو ھی پالتی رھے گی۔ کیا ۳۰۰ ارب سے زیادہ عوام کا حق ان اداروں کی مرھم پٹی پر لگتا رھے گا۔ کوی اللہ کا بندہ پاکستان کی عوا م کا حق جو انکو روز مرہ کی اشیا میں حکومتی سبٹڈی کی صورت میں دلاسکتا ھے۔ کوی مرد اھن یہ ۳۰۰ ارب کا غیر ضروری اصراف پاکستان کی عوام کی فلاح بھبود میں استمعال کرواسکتا ھے۔
اخر کون ایسا مرد مجاھد پاکستان میں ھوگا جو ان کرپشن کے کیخلاف کوی اواز اٹھاے گا۔ کون سی ایسی سیاسی جماعت ھوگی جو اپنے وزارہ اور اسمبلیوں کی ممبروں کی مراعات کو کم کراواکے ایک مثال قایم کرے تاکہ پاکستان کے بجٹ سے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی ھو۔ پاکستان میں اج ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت ھے جو انقلابی اقدامات کرکے پاکستان کو زوال میں جانے سے بچاے۔ جس کی اولین ترجیح صرف اور عوام اور پاکستان کی فلاح اور بھبود ھو اور وہ اپنے انقلابی اقدامات سے حکومتی اخراجات میں کمی کرے، پاکستان کی بیروکریسی ﴿سی اس پی افیسرز﴾ جس کو پاکستان کا انجن کھا جاتا جنکی تعداد صرف ۷۰۰ سے زیادہ نھیں انکی کرپشن کا کوی بھی حساب نھیں لیتا اور کوی محاسبہ نھیں ھوتا۔ ان پر چیک اینڈ بیلنس کی اشد ضرورت ھے۔ پاکستان کے وہ ادارے جو سفید ھاتھی ھیں جنکی نالایقیوں پر پرڈہ ڈالنے کے لیے ھر سال بجٹ میں سے اربوں خرچ کیے جاتے ھیں ان کا قبلہ ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ھے چاھیے انکو پراییوٹ کردیا جاے یا کوی دوسرا انقلابی اقدام اٹھایا جاے تاکہ یہ ادارے ٹھیک طریقے سے کام کرسکیں اور انکا بوجھ پاکستان کے بجٹ پر نہ پڑے۔ پوری دنیا میں عوام کے ٹیکسوں کو شوشل پروگرام کے زریعے ان پر ھی خرچ کرنے کا وتیرہ ھے پر پاکستان کی عوام کا ٹیکس نہ جانے کدھر خرچ کیا جاتا ھے اور ھر سال خسارے کا بجٹ ادھمری عوام کو مزید ادھمرہ کردیتا ھے۔جس کو پورہ کرنے کے لیے عوام سے قربانی مانگی جاتی ھے مگر اب عوام سے قربانی مانگنے کا تقاضہ بن کرکے انکے لیڈروں اور نمایندوں کو قربانی دینی ھوگی۔تاکہ پاکستان کو ایک راہ پر ڈالا جاے جو عوام کی فلاح کا راستہ ھو۔