اردو نیوز میں ایک مراسلہ بے نقاب کے مضمون سے شایع ھوا جس میں صاحب قلم نے اپنے جذبات کا اظھار کیا۔ ھر انسان اپنے جذبات کے اظھار کے سلسلے میں ازاد ھے اور اردو نیوز بھی مبارک باد کی حقدار ھے جو تنقید اورتعریف دونوں کو برابر کا درجہ دیتی ھوے اپنی صحافتی ذمہداری باخوبی انجام دے رھی ھے۔ دنیا میں کوی بھی تحریک شرورع ایک افراد سے ھوتی ھے اور درجہ بہ درجہ ترقی کے مدارج طے کرتی ھوی معاشرے کے ایک گروپ پھر پوری قوم کو متحد کرلیتی ھے۔ اور ایسا ھی منفرد مقام مھاجر قومی موومنٹ کو بھی حاصل ھوا جو ایک پسے ھوے طبقے کی نمایندگی کرتے ھوے ترقی کی اس سطح پر پھنچ گی ھے جو پاکستان کی سیاست میں کبھی کسی سیاسی جماعت کو حاصل نھیں ھوا۔اب سوال یہ نھیں کہ کس طرح سفر شروع ھوا اور پاکستان کے حالات اس چیز کے متقاضی نھیں ھیں کہ ماضی کی پرتوں کو اکھیڑا جاے۔ اج کا پاکستان شدت سے تقاضہ کرھا ھے کہ قاید اعظم محمد علی جناح کے اس پاکستان کو ھم بچاییں اللہ نے ھم کو کس چیز سے نھیں نوازہ ، کیا کچھ ھم کو نھیں دیا۔ لیکن گنتی چند ناسوروں نے پاکستان کی ۱۷ کروڑ عوام کو دنیا میں ایک بے نام قوم میں بدل دیا۔ سب کچھ ھوتے ھوے بھی پاکستان کی ۱۷ کڑوڑ عوام جس پریشانی کا شکار ھے اس سے صاحب مراسلہ بھی باخوبی واقف ھونگے اور اس سے نجات کا راستہ ڈوھنڈنا ھر محب وطن پر واجب ھے۔ اگر متحدہ قومی موومنٹ کے قاید الطاف حسین صاحب اور انکی جماعت ان مسایل کے حل کے لیے سنجیدگی سے ﴿عملی ﴾کام کررھے ھیں جس سے پاکستان کی عوام کو فایدہ ھو تو ھم کو بھی کسی دلی وابستگی کو بالا طاق رکھتے ھوے صرف کو پاکستان کے مفاد کو مدنظر رکھنا چاھیے۔۔ملک کے طالب علم ھی قوم کے معمار ھوتے ھیں اس کا عملی مظاھرہ ال پاکستان متحدہ اسٹونڈ اورگنازیزیشن پاکستان نے کرکے بھی دیھکایا۔ جب امریکہ میں ایک سیاہ فام صدر بن سکتا ھے تو پاکستان کے وایٹ <?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
ھاوس میں غریب عوام میں سے ھی انکا نمایندہ کیوں نھیں اسکتا۔یہ ھی متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین کا خواب ھے۔یہ نہ صرف الطاف حسین کا خواب ھے بلکہ پاکستان کے تمام غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک ایک پاکستانی کا خواب ھے کہ جس انسان کو ھم بانی پاکستان کھتے ھیں جو ھمارے پیارے ملک کا بانی ھے اس کا پاکستان اسکے فرمودات اور تعلیمات کے حساب سے ھونا چاھیے۔ جھاں ھر پاکستانی کسی بھی رنگ نسل، ذات، رمذھب سے تعلق رکھتا ھو، اگر وہ سرزمین پاکستان کا باسی ھے تو اسی عزت اور توقیر کا مستحق ھونا چاھیے جس کا فایدہ چند گنتی کے لوگ پاکستان میں فایدہ لے رھے ھیں۔ اج کا پاکستان بیدار ھورھا ھے ۔ عوام بیدار ھوری ھے، عدلیہ بیدار ھے۔ میذیا بیدار ھے۔ کیا یہ بیداری اس چیز کا عندیہ نھیں کہ پاکستان میں ایک خوشحال انقلاب دستک دے رھا ھے۔جو پاکستان کی دولت کو لوٹنے والوں کو اور عوام کو قرضوں میں جکڑنے والوں کو انصاف کے کٹھرے میں کھڑا کرے گا۔ الطاف حسین صاحب نے اس کا اظھار ال پاکستان متحدہ اسٹونڈ اورگنازیزیشن پاکستان کے ۳۲ یوم تاسیس کے موقع پر پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے حق پرست ججوں کو جو پاکستان میں انصاف کی بالا دستی کے لیے اپنا کردار ادا کررھیں خراج تحسین ادا کیا اور اس بات کا عندیہ دیا کہ پاکستان کی تمام عوام پاکستان کے دشمنوں کو انصاف کے کٹھرے میں لانے کے لیے ھر دم یتار ھے تاکہ پاکستان ایک نی جھت میں داخل ھو جس کا خواب علامہ اقبال نے دیھکا اور بانی پاکستان نے اس کے لیے عملی جھدوجھد کی اور پاکستان پھیلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنی نوابی کو ترق کردی ۔