یہ اس نظم ﴿دعا﴾کے الفاظ ھیں جس سے ھر پاکستانی واقف ھے اور اسکول کی ابتدا کرنے کے ساتھ ھی اسے روز اس نظم ﴿دعا﴾ کو تمام اسکول کے ساتھیوں کے ساتھ پڑھنا ھوتا ھے جو دراصل اس عھد کو بار بار یاد رکھنا اس لیے بھی مقصود ھوتا ھے کہ جب یہ طالب علم زندگی کے کسی بھی میدان میں قدم رکھے تو اس ھی دعا کی روح کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے تاکہ اسکی زندگی اس شمع کی مانند ھو جو تمام دنیا میں پاکستان کا نام سربلند رکھے اور اس کی ذات سے اس کے ھم وطنوں کو کوی اذیت نہ پھنچے اور اسکا کا ھر قدم غریبوں ، محتاجوں اور ضرورت مندوں کے حقوق کی حفاظت کی خاطر اٹھے تاکہ اس کے ھم وطن کے ضرورت مندوں اور بزرگوں کو اسکی ذات سے فایدہ ھو۔اور اپنے وطن کے ھم وطنوں سے محبت کرنا اس کا اولین فریضہ ھو۔<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
ھر روز اسکی اللہ سے یہ فریاد کرنا کہ میرے اللہ برای سے بچانا مجھکو اورنیک جو راہ ھو چلانا مجھکو۔ دراصل اس بچے کا اس عظیم رب کاینات کے اگے اس عزم کا اظھار کرنا ھوتا کہ عملی زندگی کے نیشب و فراز میں زمانے کی تکلیفوں کے باوجود اس کو اللہ کے بتای ھوی نیکی کی راہ پر چلنے کی توفیق ھو جس سے کسی کی حق تلفی نہ ھو۔ اگر اللہ اسے کسی بھی اعلی مرتبے پر فایز بھی کردے تو اسکا ھر قدم انسانییت کی فلاح اور مدد کے لیے ھو ناکہ کے اس کے کسی بھی فعل سے غریب پاکستانی قوم کو تکلیف ھو۔
یہ بھی بڑی تکلیف دہ بات ھے۔ جھاں ھر پاکستانی نے اپنے اسکول کے دنوں میں لاکھوں بار اس دعا کو پڑھا ھوگا، اس میں اج کے ڈاکٹرز، انجنیرز، سیاستدان غرض یہ ھر پاکستانی اس دعا سے واقف ھے۔ کیا ھم اس دعا کو بھول بھیٹے ھیں ، کیا یہ صرف اسکول میں ھمیں طوطے کی طرح رٹنے کے لیے پڑاھی جاتی تھی۔ میں نھیں سمجھتا کہ مجھ سمیت پاکستان کا کوی بھی انسان اس دعا کی روح کو اس طرح اپنی زندگی پر لاگو کرپایا ھے۔ جو ھونا چاھیے تھا۔
جھاں یہ دعا ھر انسان کو ایک راہ دیکھاتی ھے۔ وھاں ان خاص لوگوں پر جن کو اللہ کوی اعلی منصب یا عھدہ عطا کردیتا ھے۔ بڑی بھاری ذمہ داری عاید کردیتی ھے۔ کیونکہ ان کا اٹھایا ھوا ایک بھی غلط قدم پورے معاشرے کو مشکل میں ڈال دیتا ھے۔ جس سے قوم کا ایک ایک مظلوم انسان جو زمانے کی مشکلوں کا شکار ھوتا ھے، مزید اذیت میں مبتلا ھوجاتا ھے۔
کیا ایسا ھوسکتا ھے کہ پاکستان کی اسمبلیوں میں اور وہ ادارے جو عوام کی فلاح و بھبود کا تعین کرتے ھیں وھاں اس دعا کو روزانہ پڑھنا لازمی قرار دے دیا جاے۔ تاکہ اگر ھمارے وہ حکمران جن زندگیوں کو شمع کی مانند ھونا چاھیے جس کی روشنی سے پورہ پاکستان منور ھوجاے۔ اپنی غلط حکمت علمی سے عوام کو مشکل میں ڈال نہ سکیں اور یہ دعا کم ازکم انکو روز یہ یاد دلاتی رھے کہ انکی زندگی کو کیسا ھونا چاھیے۔
زندگی شمع کی صورت ھو خدایا میری
دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرہ ھوجاے
ھر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ھوجاے
Comments
Good Article
Hi,
I am Shahid Azam from Pakistan serving in K.S.A. Today when i want to search some articles on net, i find your article "Lab Pe Ati Hay Doa Ban Ke Tamna Meri". After reading this i really feel that we all are forgot the meaning of this poem. You made a good effort to relies us our duty about our Pakistan. Thank you and have a good time.