<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
بچپن سے سنتے اے ھیں کہ الہ دین کو ایک چراغ ملا تھا جس میں ایک جن قید تھا جو اپنے اقا کے حکم کی تعمیل پلٹ جھپٹے ھی کردیتا تھا۔ یہ ایک داستان تھی جس کا حقیقت سے کوی لینا دینا نھیں ھے۔ اج پھر قومی اسمبلی کی اسپیکر کو اس چراغ کی یاد ای کہ ھمارے پاس کوی الہ دین کا چراغ نھیں جسکو گھس کر ھم مسایل کو حل کردیں۔ انسان ایک اشرف المخلوقات ھے جس کو اللہ تبارک تعالی نے بڑی عقل شعور سے نوازہ ھے۔ اصل جن انسانوں کے ارادوں میں ھوتا ھے۔ بس ارادوں کا مضبوط ھونا اور رب باری تعالی پر ایمان کامل ھو تو جو کام الہ دین کا چراغ کردیا کرتا تھا۔ وہ انسان نامی جن بھی کرگزتا ھے۔ اس کا عملی مظاھرہ حال ھی میں کراچی کے ایک نوجوان نے کرکے بھی دیکھا دیا ھے، چار سالوں میں کراچی کا نقشہ بدلنا۔ پورے کراچی کو کھود ڈالا اور پھر اسکو سنوار ڈالا۔ کیا یہ کسی الہ دین کے چراغ کا کمال تھا، نھیں یہ انسان کا ھی کمال تھا جسکو لوگ مصطفی کمال سے زیادہ مصطفی کھدال کے نام سے جاننے لگے تھے، کیا یہ مثال ھمارے اسلام اباد میں بیھٹے حکمرانوں کے لیے کافی نھیں۔ کیا کمی ھے پاکستان میں ، کس وسایل کی کمی ھے، کس کے لیے ھم پر قرضوں کا بوجھ در بوجھ چڑاھایا جارھا ھے۔ کیوں ھمارے حکمرانوں کی انکھیں امریکی اور دنیا سے ملنے والی امداد اور قرضوں کی منتظر رھتی ھیں۔ کیا ملتا ھے اس امداد سے ایک عام ادمی کو۔ اخر کب تک پاکستان کی عام عوام کو بے وقوف بنایا جاتا رھے گا، کیوں ۳۰۰ ارب کی خطیر رقم سفید ھاتھی جیسے اداروں کی مرھم پٹی پر لگای جاتی رھے گی۔ کیوں افغان ٹریڈٹرانسٹ سے ۱۰۰ ارب کا فایدہ اٹھایا نھیں جاتا۔ ۷۰ ارب روپے کیوں ایسے پرواگرام پر خرچ کیے جارھے ھیں۔ جو ایک عام ادمی صرف ۱۰۰۰ روپے کی ماھانہ امداد دے گا، اج کے اس دور میں ۱۰۰۰ روپے کی کیا اوقات ھے، کیا کر پاے وہ ا۰۰۰ روپے لیکر۔ کیا ان ۷۰ ارب روپے سے ھر سال ۷۰ فیکڑی یا صنعت نھیں لگ سکتی۔ ھر کوی جانتا ایک فیکڑی یا صنعت ۱۵۰ سے ۳۰۰ گھرانوں کے گھر کے چولھے جلاسکتی ھے۔تو فایدہ کا سودا کیا ھوا، کب تک ھم خسارے کا سودا کرتے رھیں گے، ھمارے ھر ادارے میں خسارہ۔ اخر کیوں رینٹل پاور کے خسارہ والے سودے کے ھمارے حکمران بھاگے جارھے ھیں۔ کیوں بن قاسم کے دو پاور پلانٹ بند ھیں۔ انکو کیوں بند کیا ھوا ھے۔ انکو کیوں نھیں چلایا جاتا، اگر یہ سارے پاور پلانٹ چل جاییں تو کراچی کے لیے انرجی کا مسلہ نھیں رھے گاا اور جو کراچی کو واپڈا بجلی دیتا ھے وہ ملک کے دوسرے حصوں میں تقسیم ھوجاے گی، اور یہ پاور پلانٹ جب چلیں گے تو جھینگے بھی ملیں گے جس کو گورمنٹ یا دوسرا ادارہ بیچ کر زرمبادہ کما سکتا ھے جس سے بن قاسم پاور پلانٹ کیا اخراجات بھی پورے ھوسکتے ھیں۔
انسان کسی الہ دین کے چراغ کے جن سے کم نھیں صرف صاف نیت اور اللہ کی مدد کا محتاج ھے۔ اگر نیت صاف کرلی جاے اللہ کی مدد بھی ساتھ ھوتی ھے اور فتح اور نصرت انسان کا مقدر ھوتی۔ خدارہ صاف نیت کے ساتھ پاکستان کے عوام سے کیے وعدوں کی لاج رکھ لو جو اپ لوگ ووٹ مانگتے ھوے کرتے ھو۔ پھر دیکھنا کہ الہ دین خود چل کر تمھارے پاس اے گا کہ اپنے چراغ کا جن اسکو ادھار دے دو۔