خدارہ قوم کو بھکاری نہ بنایا جاے۔ ان خیالات کا اظھار متحدہ قومی موومنٹ کے قاید الطاف حسین نے لاھور میں﴿ غربت، مھنگای اور عوام کی مشکلات﴾ کے موضوع پر ھونے والے ایک سیمینار کے موقع پر کیا۔ اسلامی کتب میں درج ھے کہ مومن ایک سوارخ سے ایک بار ھی ڈسا جاسکتا ھے ۔ لیکن یہ سمج سے بالاتر بات ھے کہ پاکستان کی عوام کیوں بار بار ان ھی لوگوں کو منتخب کرتی ھے جو ان کے دکھوں کا مداوہ کرنے کہ احل ھی نھیں۔ گذشتہ ۶۳ برس کی قومی زندگی میں سیاسی حکومیتیں بھی اییں اور فوج کی اعلا قیادت نے بھی طلہ ازمای کی۔ سیاسی نظام بھی بدلے گیے لیکن یہ سب مل کر بھی پاکستانی عوام کی حالت کو بدل نہ پاے۔ اس کا واحد سبب یہ بھی ھے کہ عوام نے خود کبھی اپنی حالت بدلنے کی کوشش نھیں کی۔ وہ بار بار ازمای ھوی جماعتوں اور ان ھی چھروں پر اکتفا کرتے ھوے اپنی قسمت کا مالک بناتے رھے ھیں۔ اس تمام عرصہ میں پاکستانی قوم نے یہ بھی سوچنے کی زحمت گوارہ نھیں کی کہ جن امیدواروں کو وہ ووٹ دے کر اپنی قسمت اور ملک کی دولت کا مالک بنارھے وہ تو پاکستان کی عوام میں سے ھے ھی نھیں جن کو اپنے بھاییوں اور ھم وطنوں کی اس امید کا زرہ برابر احساس نھیں۔ جس بھتر پاکستان کی خاطر عوام ان کو منتخب کرتی ھے وہ منتخب ھونے کے بعد انکو پھنچانے سے بھی انکاری ھوجاتی ھے اور ان کا صرف ایک ھی مقصد رھے جاتا ھے کہ کس طرح اپنی دولت میں اضافہ کیا جاے۔ اج پاکستان کے دانشوروں اور قلم کاروں پر بڑی بھاری ذمہ داری عاید ھوجاتی ھے کہ وہ اپنے قلم اور اثر روسوخ کو استعمال کرتے ھوے قوم میں شعور بیدار کریں کہ وہ بار بار کے ازماے ھوے کرپٹ لوگوں کو ووٹ نہ دیں۔ اور اپنے اندر سے ھی قیادت نکال کر غریب اور متوسط طبقے کے پڑھے لکھے افراد کو منتخب کریں۔ انقلاب ھمیشہ نیچے سے اتے ھیں نہ کہ اوپر سے۔<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
پاکستان اج اس دوراھے پر کھڑا ھے جھاں ایک راستہ اسے ان خون اشام بھیڑوں کے چنگل میں ڈال دے گا جو پاکستان کی عوام کا خون بھارھے ھیں جن کے نزدیک پاکستان کی عوام قربانی کے بکروں کی مانند ھے جن کو وہ اپنے مذموم مقاصد اور اپنے غیر ملکی اقاوں کی خشودیوں کی خاطر پل میں خاک و خون میں نھلادیتے ھیں۔ جن کے لیے نہ کوی عبادت گاہ محترم ھے نہ کوی بزرگوں کی اخری ارام گاہ قابل احترام ھے۔ ان کا مقصد صرف نوجوانوں کی برین واشنگ کرنے اپنے ھی ھم وطنوں پر ستم ڈھانا ھے۔
اس کے برعکس دوسرا راستہ خوشحال انقلاب کا ھے جس پر چلنے کے لیے پاکستان کی عوام صرف اور صرف اپنے ھی ان غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ان پڑھے لکھے لوگوں کو اگے لانا ھوگا۔ جو واقف ھیں پاکستان کی عوام کی تکلیفوں سے اور وہ ھی ان کو حل کرنے کا ملکہ بھی رکھتے ھیں اور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کا گر بھی جانتے ھیں۔
اب سوچنا ھر پاکستان کا اولین فرض ھے کہ وہ کس درست راستے کا انتخاب کرتا ھے۔