سندھ میں لینڈمافیا ،ڈرگ مافیا اور اسلحہ سپلائیرمافیا نے اپنی دوکان لگانے کی سازش کر رہی ہے۔ اس سازش میں صوبہ سرحدکی ایک لسانی پارٹی بھی شامل ہے۔ کراچی میں تو باقاعدہ اس لینڈمافیا اورڈرگ مافیا نے ایک گینگ بھی تشکیل دیاہوا ہے۔ جس کانام پختون ایکشن کمیٹی یا لویہ جرگہ ہے اوراس کا سرغنہ شاہی سید نامی شخص ہے۔شاہی سیدکراچی کے ٹرانسپوٹرز سے بھتہ بھی لیتا ہے اور اس آدمی کے چھ پٹرول پمپ بھی ہیں۔ اس بات کی گواہی 30اپریل 2009بروز جمعرات کوایک ٹی وی چینل “بزنس پلس”کے لائیو پروگرام “Pulse”میں مسلم لیگ کراچی کے رہنمانہال ہاشمی نے دی۔ اس آدمی نے دولت کے انبار سندھ میں زمینوں پر قبضے ، ڈرگس اوراسلحہ فروخت کرکے لگائے ہیں۔
لینڈمافیا ،ڈرگ مافیا اور اسلحہ سپلائیرمافیا کاگڑھ کراچی میں الاصف اسکوائرہے جہاں پولیس بھی جانے سے ڈرتی ہے اور ان مافیا کے کارندوں کو گرفتار نہیں کرتی جس کی وجہ سے دہشت گردوں کے حوصلے اوربلندہو گئے ہیں۔ پختون ایکشن کمیٹی یا لویہ جرگہ گینگ کا ایک اور کام افغانستان سے افغانیوں کوصوبہ سرحد کے پختونوں کے بھیس میں لاکرخالی زمینوں پر جھگیوں میں بساناہے اور پھر آہستہ آہستہ اس پر جھگی کو پکے گھر میں تبدیل کرنا ہے۔اس کی واضح مثال آپ سپر ہائی وے کر اچی کے اطراف میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ حیدرآباد میں تو سندھ کی ایک قوم پرست جماعت “جئے سندھ”اور افغانیوں”نام نہاد پختونوں “میں ایک خوفناک تصادم بھی ہو چکا ہے۔ جس میں کئی دوکانوں کو آگ لگائی جاچکی ہے۔
سند ھ کی مختلف مقتدر شخصیات نے ماضی میں جس خطرے کی طرف اشارہ کیا تھا وہ اب سامنے آرہا ہے اور ا ب ایک بار پھر سندھ پروحشیانہ حملے اور ظلم و بربریت کی تاریخ دہرانے اور خون خرابے کی تیاری کی جارہی ہے۔ لینڈ مافیا کے سرپرست اور کارندے شہر میں گروہی تصادم اور شر پسندانہ کارروائیوں سے شہریوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کر رہے ہیں۔
سندھ میں امن وامان کے قیام کیلئے یہ ضروری ہے کہ یہاں پولیس اور پاکستان رینجرز سندھ کی معاونت سےموجود قبضہ مافیا، لینڈ مافیا، اسٹریٹ کرائمز اور شر پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کیاجائے جو کہ کراچی کے اطراف پہاڑیوں خصوصاً گڈاپ ٹاون میں قیمتی سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ منشیات اور اسلحہ فروخت کرکے سندھ کا امن خراب کرنا چاہتی ہے۔ لینڈ مافیا کے سرپرست اور کارندے شہر میں گروہی تصادم اور شر پسندانہ کارروائیوں سے شہریوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کر رہے ہیں۔ان عناصر کے خلاف بلا امتیاز منظم کارروائی کو یقینی بنائیں۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے لہٰذا پولیس اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت، لاپروائی یا پس وپیش کا مظاہرہ نہ کریں اور شہریوں کی شکایات پر رپورٹ کے اندراج میں تاخیری حربوں یا ہراساں کرنے سے گریزکریں۔