ء1967 میں دیگر علاقوں کے علاوہ مشرقی یروشلم سمیت وسیع مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کا وسیع منصوبہ شروع کیا ہوا ھے۔ جہاں اب تک قریباً پانچ لاکھ یہودی آبادکار ایک بہترین سویلین انفراسٹرکچر کے فوائد سے نہ صرف لطف اندوز ہو رھے ہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لئے اسرائیلی فوج کومستقل طور پر مامور رکھا گیا ھے۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ ان بستیوں کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے اسرائیلی معاہدوں کے ڈ رامے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے ان بستیوں کے پھیلاؤ کا عمل مسلسل جاری رہا ھے۔ جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا سرکاری موقف ھے کہ وہ ان بستیوں کے "بین الاقوامی قانونی جواز" کو تسلیم نہیں کرتا ۔ تاہم امریکہ اسرائیل کی اس توسیع پسندانہ پالیسی میں پچھلی کئی دہائیوں سے مسلسل خفیہ مدد فراہم کرتا رہا ھے۔
امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو مبینہ طور پرلکھے گئے ایک خط کی تفصیلات کا انکشاف ہوا ھے جو فلسطینیوں کے ساتھ
ایک اور عوامی لاطینی رہنما کی منتخب حکومت کے خلاف ارادہِ قتل کی ایف آئی آر میں واشنگٹن کے واضح فنگر پرنٹس ریکارڈ کر لئے گئے ۔ 9/11 کے بعد سے اب تک واشنگٹن یا سی آئی اے نے لاطینی امریکہ میں منتخب انقلابی حکومتوں کے خلاف چار فوجی بغاوتیں کرانے کی کوشش کی ھے، جن میں سے دو کامیاب ہوئیں جبکہ دو ناکام۔ 2009 ء میں مینو ئل زیلا کے خلاف ہونڈوراس میں اور ہیٹی میں 2004 ء میں جین برٹرینڈ کی منتخب حکومتوںپر امریکہ سپانسرڈ کامیاب جمہوریت کش حملے کئے گئے جبکہ وینزویلا میں ہیوگو شاویز کے خلاف 2002ءمیں اور ایکواڈور میں رافیل کوریا کے خلاف گزشتہ ہفتے 30 ستمبر 2010ء کو منتخب عوامی حکومتوں کے خلاف ایسے ہی حملے ناکام بنا دیئے گئے۔ متذکرہ بالا چار جمہوریت کش فوجی حملوں میں سے دو صدر بش جبکہ دو صدراوباما کے دورِ حکومت میں ہوئے۔ 2009 ء میں مینو ئل زیلا کی حکومت کے خلاف ہونڈوراس میں کامیاب فوجی بغاوت نے امریکی جنونیوں کو اپنے اگلے ہدف کے طور پرایکواڈور کو نشانہ بنانے کے لئے اُکسایا تاکہ خطے میں ہیوگو شاویزکو تنہا کیا جا سکے۔
اگر ہم حقائق سے پردہ پوشی کرنے لگیں تو شتر مرغ کی طرح سر ریت میں چھپا سکتے ہیں لیکن حقیقت کو چھپا نہیں سکتے کہ پا