
خیالات کے بے ہنگم ہجوم میں سوچتاہوں، کہوںتوکیا کہوں۔ پھول کی خوشبو سحر انگیز تاثیر رکھتی ہے۔ لفظوں کے اثرات م

زمانہ ساز شکوہ ساز نہیں ہوتے، شکوہ ساز تصور کیئے جاتے ہیں۔الزام تراش ملزمِ زمانہ ٹھہرائے جاتے ہیں۔جن کو دُنیا

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ”عہد کو پورا کرو۔ بے شک تم سے عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“

لفظ اثر دیتے ہیں، آواز اثررکھتی ہے اور چہرہ اثر قائم رکھتا ہے۔

انسان تنہا ہو رہاہے، تنہائی میں تنہائی کا شکار......خوف میں مبتلا انسان تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج کاالمیہ؟

قائد قانون ہی قومِ عقیق کی عمق ہے۔ قانون حکمران ہو تو قوم کی شان ہوتی ہے، جب انسان ایمان کے ساتھ امان بھی رکھے ت

تعزیت تعظیم سے ہوتی ہے، تعسُر (دشوار ہونا) ضرور ہوتا ہے، یہ معاملہء تعقید(پوشیدہ بات کہنا) بڑا ہی تحریم ہوتا ہے،